Urdu book · اوراقِ حکمت

اوراقِ حکمت

Urdu book, p. 126

By Maulana Wahiduddin Khan

ترقی“ کے کام کی صورتیں نکالیں ۔ حتیٰ کہ انھوں نے تاریخ کے رخ کو بدل دیا۔ اگر وہ قریش اور یہود اور منافقین سے مطالبہ کرتے کہ ہمارے راستے کی رکاوٹیں ختم کرواتا کہ ہم تعمیری کام انجام دے سکیں تو نہ کبھی رکاوٹیں ختم ہوتیں، اور نہ کبھی تعمیری کام کا آغاز ہوتا۔ ہمارے قائدین کو چاہیے کہ وہ مسلمانوں کورکاوٹوں کے باوجود کام کرنے کا سبق دیں ۔ رکاوٹوں کے بغیر کام کا جونسخہ وہ پیش کر رہے ہیں، وہ کسی خیالی جزیرہ میں ممکن ہو سکتا ہے۔ موجودہ مقابلہ کی دنیا میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔ 25 جون 1985 زندگی بے حد مشکل امتحان ہے۔ اس مشکل کا ایک پہلو یہ ہے کہ اکثر معاملات میں آدمی کو کٹھن فیصلہ لینا ہوتا ہے، کبھی ایک طرف اور کبھی دوسری طرف۔ یہ طے کرنا کہ کب کس رُخ پر اقدام کیا جائے، یہ بے حد نازک اور مشکل کام ہے، بلکہ شاید اکثر اوقات میں انسانی عقل سے باہر۔ کیوں کہ صحیح فیصلہ لینے کے لیے مستقبل کو جاننے کی ضرورت ہوتی ہے، اور مستقبل کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک فیصلہ وہ ہے جو آپ نے صلح حدیبیہ کے وقت لیا اور دوسرا فیصلہ وہ ہے جو آپ نے فتح مکہ کے وقت لیا۔ دونوں دو انتہائی فیصلے تھے۔ صلح حدیبیہ کے وقت مکمل طور پر پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا گیا اور فتح مکہ کے سفر میں مکمل طور پر آگے بڑھنے کا۔ دونوں انتہائی فیصلے تھے۔ پیغمبر کا فیصلہ خدا کی وحی کی بنیاد پر تھا، اس لیے پیغمبرِ اسلام کے لیے ممکن تھا کہ وہ اس طرح کے انتہائی کٹھن معاملے میں صحیح فیصلہ لے سکے۔ مگر عام انسان کے لیے شاید یہ ممکن نہیں کہ وہ اس طرح کے انتہائی کٹھن فیصلے اتنے درست طور پر لے سکے۔ عام آدمی کے لیے، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت (صحیح البخاری ، حدیث نمبر 3560) کے مطابق، یہی راستہ ہے کہ وہ ممکن (possible) یا آسان تر کو پہچانے اور اس کو اختیار کرے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page