پیش لفظ
Urdu book, p. 24
By Maulana Wahiduddin Khan
ہیں، وہی تدبیر اگر دوسرے لوگ کریں تو انھیں اس پر شور و غل نہیں کرنا چاہیے۔ 1981 میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں ہنگامے ہوئے تھے۔ اس کے نتیجے میں یونیورسٹی کے اندر پولیس بلائی گئی۔ اس وقت ہندوستان کی مسلم قیادت نے زبردست جوش و خروش کا مظاہرہ کیا۔ 29 اگست 1981 کو ایک معروف مسلم ادارے کی جانب سے مسلم یونیورسٹی کنونشن ہوا۔ یہ کنونشن بچوں کا گھر دہلی میں منعقد کیا گیا تھا۔ اس موقع پر ادارے کی میگزین نے لکھا: ”یونیورسٹی کے ذمہ داران یونیورسٹی کے مسائل کو جیل اور گولی اور رسوا کن بیانات سے کیوں طے کرنا چاہتے ہیں۔ معقولیت اور گفتگو کا طریقہ کیوں نہیں اپنایا جاتا۔ ہمارے ادارے نے مسلم یونیورسٹی کنونشن اس لیے بلایا ہے تا کہ یونیورسٹی کے معاملات کو خوش اسلوبی سے طے کیا جائے اور یونیورسٹی کی فضا خوش گوار ہو سکے“(28 اگست، 1981)۔ جب دوسروں کا احتساب کرنا ہو تو تمام مسلم لیڈر یہی زبان بولتے ہیں، مگر خود اپنا احتساب کرنا ہو تو وہ اس کے بالکل خلاف عمل کرتے ہیں۔ آج ہر مسلم ادارے کا یہ حال کہ اس جس سے اختلاف ہو جائے اس کے بارے میں بققدر استطاعت وہ ”گولی“ اور ”رسوا کن بیانات“ کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ مگر دوسروں سے اپنے لیے وہ اس سے مختلف رویے کا مطالبہ کرتا ہے۔ اس قسم کے مطالبات بلاشبہ چھوٹے مطالبات ہیں، اور چھوٹے مطالبات کی موجودہ دنیا میں کوئی قیمت نہیں۔ ٹھیک سات سال پہلے 6 فروری 1979 کو میں نے حسب ذیل سطریں لکھی تھیں: مکۃ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader