Urdu book · اوراقِ حکمت

14 مارچ 1985

Urdu book, p. 54

By Maulana Wahiduddin Khan

رائے تھے۔ راجہ رام موہن رائے کے سکریٹری (Sandford Arnot) نے لکھا ہے کہ وہ کم از کم 11 زبانوں سے واقف تھے - سنسکرت، عربی، فارسی، ہندی، بنگالی، انگریزی، عبرانی، لاطینی، فرانسیسی، اردو، یونانی۔ ان کی پہلی کتاب کا نام تحفۃ الموحدین ہے۔ اس کا دیباچہ عربی میں ہے، اور اصل کتاب فارسی میں ہے۔ انھوں نے پہلی بار ویدوں اور اپنشدوں کا انگریزی اور بنگالی میں ترجمہ کیا۔ 1816 میں انھوں نے بنگال گزٹ نکالا، جو کسی ہندوستانی کی ملکیت میں نکلنے والا پہلا انگریزی اخبار تھا۔ اس کے علاوہ انھوں نے فارسی میں بھی ایک اخبار جاری کیا۔ لال قلعہ کے مغل بادشاہ کو اپنے وظیفہ کی رقم کے سلسلہ میں ایک سفارت انگلستان بھیجنے کی ضرورت پیش آئی۔ اس وقت مغل تاجدار نے جس ہندوستانی کا انتخاب کیا، وہ راجہ رام موہن رائے تھے۔ چنانچہ وہ 1830 میں اس مشن کے تحت انگلستان گئے۔ ہند و قوم کو اٹھارھویں صدی میں راجہ رام موہن رائے جیسا آدمی مل گیا۔ اس لیے وہ فوراً سائنس کی تعلیم میں داخل ہوگئی۔ مگر مسلمانوں کو پچھلے دو سو برس میں بھی غالباً کوئی ”راجہ رام موہن رائے“ نہیں ملا۔ ایسی حالت میں مسلمان اگر جدید تعلیم میں پیچھے ہیں تو یہ عین وہی بات ہے، جو واقعہ کے اعتبار سے ہونی چاہیے۔ 21 مارچ 1985 اجمیر کے قریب ایک پہاڑی علاقہ ہے، جس کو میوات کہا جاتا ہے۔ یہاں مسلمان معقول تعداد میں آباد ہیں۔ مگر سب ان پڑھ اور پس ماندہ ہیں۔ وہ دین اور تہذیب دونوں سے دور ہیں۔ تقریباً 15 سال پہلے کی بات ہے مجھے اس علاقہ میں جانے کا اتفاق ہوا۔ میرے ساتھ دو مولوی صاحبان اور تھے۔ ہم لوگ وہاں پہنچے تو مغرب کا وقت ہو چکا تھا۔ مغرب کی نماز ہم نے اپنے میزبان کے گھر کی چھت پر پڑھی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page