14 مارچ 1985
Urdu book, p. 57
By Maulana Wahiduddin Khan
اگر مجھ سے یہ پوچھا جائے کہ دنیا میں سب سے زیادہ کیا چیز ہے، تو میں کہوں گا کہ تنقید (criticism)۔ اس کے بعد اگر دوبارہ یہ پوچھا جائے کہ دنیا میں سب سے زیادہ کم کیا چیز ہے، تو دوبارہ میں کہوں گا کہ تنقید۔ کیوں میں ایسا کہتا ہوں کہ دنیا میں تنقید سب سے زیادہ ہے، اور تنقید ہی سب سے کم ہےـ اس کی وجہ ایک تنقید اور دوسری تنقید کا فرق ہے۔ تنقید کی ایک صورت بے دلیل اظہارِ رائے ہے، اور دوسری صورت ہے مدلّل تجزیہ۔ بے دلیل اظہارِ رائے بلاشبہ آج کی دنیا میں سب سے زیادہ پایا جاتا ہے، مگر مدلّل تجزیہ اس کی نسبت سے انتہائی حد تک کم ہے۔ بلکہ شاید اس کا وجود ہی نہیں۔ ایک صاحب ایک بار میری کتاب ”ظہورِ اسلام“ لے گئے۔ پڑھنے کے بعد میں نے ان سے ان کی رائے پوچھی، تو انھوں نے کہا کہ ”آپ نے لٹھ ماری ہے۔“ میں نے کہا کہ میں نے کسی کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے، دلیل سے لکھا ہے، آپ اس کو لٹھ مارنا کیسے کہتے ہیںـ مگر انھوں نے نہیں مانا۔ پھر میں نے کہا کہ آپ کتاب سے کوئی ایک مثال دیجئے، جس میں دلیل سے بات نہ کہی گئی ہو، بلکہ لٹھ ماری گئی ہو۔ مگر انھوں نے کوئی مثال نہیں دی۔ جب میں نے اصرار کیا تو وہ بگڑ گئے۔ اس قسم کی تنقید میرے نزدیک جھوٹی تنقید ہے۔ جو شخص متعین مثال نہ دے سکے، اس کو یہ حق بھی نہیں کہ وہ مجرد اظہارِ رائے کرےـ بعض تنقیدیں ایسی ہیں جن میں بظاہر مثال اور تجزیہ ہوتا ہے۔ مگر وہ نہ مثال ہوتی، اور نہ تجزیہ۔ کیوں کہ اس کی بنیاد تمام تر غلط مثال اور ناقص تجزیہ پر ہوتی ہے۔ مثلاً ”عظمت قرآن“ پہلی بار چھپی تو اس کا ٹائٹل سبز رنگ کا تھا۔ اس کو دیکھ کر ایک صاحب نے کہا ”سبز رنگ قذافی کا رنگ ہے“ اس لیے یہ کتاب قذافی کے پیسہ سے چھپی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader