عورت معمارِ انسانیت
Urdu book, p. 59
By Maulana Wahiduddin Khan
اس فرق کی بنا پر مرد کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ عورت کو اپنی چیرہ دستی کا شکار بنا سکے۔ مگر خدا کے نزدیک یہ مرد کے لیے ایک امتحان کا پرچہ ہے۔ مرد کو چاہیے کہ وہ جسمانی اعتبار سے قوی ہونے کے باوجود عورت کا پورا احترام کرے۔ خدا کی شریعت کا اصول یہ ہے کہ شریف انسان وہ ہے جو کمزور کے مقابلہ میں شریف ثابت ہو۔ وہ انسان ایک کمینہ انسان ہے جو کسی کو کمزور پا کر اُس کو اپنی زیادتی کا نشانہ بنانے لگے۔ 4۔ ہر حال میں خیر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی مومن مرد کسی مومن عورت سے نفرت نہ کرے۔ اگر اس کی کوئی عادت اس کو نا پسند ہوگی تو کوئی دوسری صفت اس کی پسند کے مطابق ہوگی: لَا يَفْرَكُ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً، إِنْ كَرِهَ مِنْهَا خُلُقًا رَضِيَ مِنْهَا آخَرَ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1469)۔ فطرت کی تقسیم کا عام اصول یہ ہے کہ کسی ایک عورت یا کسی ایک مرد کو ساری خوبیاں نہیں دی جاتیں۔ بلکہ ایسا ہوتا ہے کہ اگر کسی کو ایک خوبی زیادہ ملتی ہے تو دوسری خوبی میں اُس کے ساتھ کمی کر دی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک عورت کو اگر ظاہری جسمانی خصوصیات میں زیادہ حصہ ملا ہو تو داخلی خصوصیات میں وہ اُسی نسبت سے کم ہوگی۔ اسی طرح اگر ایک عورت داخلی سیرت میں زیادہ بڑھی ہوئی ہو تو ظاہری صفات کے اعتبار سے وہ نسبتاً کم ہوگی۔ یہ فطرت کا ایک عام اصول ہے جس میں بہت کم استثناء پایا جاتا ہے۔ مذکورہ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں اسی فطری حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ کسی مرد کی بیوی اگر ایسی ہو جو ظاہری صورت کے اعتبار سے زیادہ پرکشش نہ ہو تو اُس کو بدل ہونے کی ضرورت نہیں۔ فطرت کے قانون پر اعتماد کرتے ہوئے اُس کے اندر یہ یقین ہونا چاہیے کہ اُس کی بیوی سیرت کے اعتبار سے یقینی طور پر زیادہ بہتر ہوگی۔ اور یہ ایک واقعہ ہے کہ حقیقی زندگی میں صورت کے مقابلہ میں سیرت کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader