Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 65

By Maulana Wahiduddin Khan

کی زندگی نامکمل ہے اور اسی طرح مرد کے بغیر عورت کی زندگی نامکمل ہے۔ عورت اور مرد دونوں اپنی زندگی کا یہ فریضہ صرف اس طرح ادا نہیں کر سکتے کہ وہ نکاح کر کے ایک دوسرے کے ساتھ ازدواجی رشتے میں منسلک ہو جائیں۔ اس کے ساتھ انہیں ایک اور کام کرنا ہے۔ مذکورہ اعتبار سے وہ اپنے شعور کو بیدار کریں۔ اس ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے دونوں اپنے آپ کو ذہنی طور پر تیار کریں۔ دونوں کے لیے اُن کا گھر ایسا مدرسہ بن جائے جس میں شوہر اور بیوی دونوں ایک دوسرے کے ٹیچر بھی ہوں اور اسی کے ساتھ ایک دوسرے کے اسٹوڈنٹ بھی۔ اس دوسرے پہلو سے دونوں کے درمیان رشتہ کی مضبوطی ان کی ازدواجی زندگی کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ حدیث کے یہ الفاظ بے حد اہم ہیں کہ وہ اس کے مال میں خیر خواہی کرے۔ اس کو دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ بہترین عورت وہ ہے جو گھر کی آمدنی کو صحیح طور پر خرچ کرے وہ انتظام مال (money management) میں پوری طرح اپنے شوہر کی مددگار ہو۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ مال دنیا کی زندگی میں انسان کے لیے قیام کا ذریعہ ہے (4:5)۔ مال کا بہترین استعمال یہ ہے کہ اس کو حقیقی ضرورت کی مد میں خرچ کیا جائے۔ مال کے معاملہ میں فضول خرچی کرنا اتنا برا کام ہے کہ جو مرد اور عورت ایسا کریں ان کو قرآن میں شیطان کا بھائی اور بہن بتایا گیا ہے (الاسراء، 17:27)۔ مال کے معاملہ میں فضول خرچی کا تعلق عورتوں سے بہت زیادہ ہے۔ قرآن کے مطابق، عورتیں اپنے مزاج کے اعتبار سے تزئین اور نمائش جیسی چیزوں کو بہت زیادہ پسند کرتی ہیں (43:18)۔ اس بنا پر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ گھروں میں تقریبات اور فرنیچر اور کپڑے اور دوسری مدوں میں مال کا جو غیر ضروری خرچ ہوتا ہے وہ زیادہ تر عورتوں کے نمائشی ذوق کی وجہ سے ہوتا ہے۔ مال کا صحیح خرچ اور اس کا غلط خرچ دونوں کا انحصار زیادہ تر عورت کے اوپر ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page