آنے والی صدی
Urdu book, p. 18
By Maulana Wahiduddin Khan
آنے والی صدی دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ نے عالمی سیاست میں جو فوقیت حاصل کی۔ اس کے بعد سمجھا جانے لگا تھا کہ اب امن برطانیہ (Pax Britanica) کا دور ختم ہو گیا ، اور امن امریکہ (Pax Americana) کا دور شروع ہو گیا ہے۔ 1990ء میں ایک طرف خلیج کی جنگ میں غیر معمولی فتح اور دوسری طرف روس کے سپر پاور کی حیثیت سے خاتمہ نے امریکی دانشوروں کو اس یقین تک پہنچایا ہے کہ اب انسانی تاریخ امریکی بالادستی کے دور میں داخل ہوئی ہے۔ اور اکیسویں صدی بلا شبہ امریکی صدی (American century) ثابت ہوگی۔ موجودہ زمانہ میں امریکہ مغربی تہذیب کا قائد ہے۔ چنانچہ اس واقعہ کو مغربی تہذیب کی برتری کے ہم معنی سمجھا جا رہا ہے۔ ممتاز امریکی دانشور فرانس فو کو یامی (Francis Fukuyame) نے اس سلسلہ میں متعدد آرٹیکل امریکی اور غیر امریکی جریدوں میں شائع کیے ہیں۔ تین حوالے یہ ہیں : The End of History, The National Interest, Summer 1989 Are We Witnessing the End of History, Sunday Star, September 1989 Are We at the End of History, Fortune, January 1990 ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صدی جو اپنے خاتمہ کو پہنچ رہی ہے وہ اقتصادی اور سیاسی آزادی کے اصول کی واضح فتح (unabashed victory of economical and political liberalism) پر منتج ہوئی ہے۔ ہم غالباً انسانیت کے نظریاتی ارتقاء کے نقطہ کمال کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ اور یہ کہ مغرب کی آزاد جمہوریت اب انسانی حکومت کے آخری نظام کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آگئی ہے : We may be witnessing the end point of mankind's ideological evolution and the emergence of western liberal democracy as the final form of human government. اسی قسم کا دعویٰ ۷۵ سال پہلے کمیونسٹ روس نے کیا تھا، اب یہی دعویٰ سرمایہ دار امریکہ کر رہا ہے ۔ مگر اشتراکی ڈکٹیٹر شپ کا جو انجام ہوا، وہی انجام یقینی طور پر مغربی لبرلزم کا بھی ہونے والا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader