دین محفوظ کی طاقت
Urdu book, p. 20
By Maulana Wahiduddin Khan
دین محفوظ کی طاقت یہ ۱۹۱۴ء سے پہلے کے زمانہ کا واقعہ ہے۔ جب کہ ہندوستان میں انگریزوں کی حکومت تھی۔ ایک پادری صاحب دہرہ دون میں تقریر کر رہے تھے۔ ہندوئوں اور مسلمانوں کا ایک مجمع ان کی تقریر سن رہا تھا۔ وہ اپنی تقریر میں یہ ثابت کر رہے تھے کہ عیسیٰ مسیح خدا کے بیٹے ہیں اور انسانوں کی نجات صرف اس میں ہے کہ وہ آپ کی الوہیت اور کفارہ کے عقیدہ پر ایمان لائیں۔ مجمع میں ایک نوجوان مولوی بھی موجود تھے۔ وہ جلدی مدرسہ سے بڑھ کر نکلے تھے۔ پادری کی تقریر سن کر انہیں جوش آگیا۔ انہوں نے کھڑے ہو کر کہا کہ آپ بالکل غلط کہہ رہے ہیں۔ خدا کا بیٹا کیسے ہو سکتا ہے۔ یہ مولوی ابھی نوعمر تھے جب کہ پادری کافی تجربہ کار ہو چکا تھا۔ اس نے مولوی صاحب کو اپنے دلائل میں اس طرح الجھایا کہ بظاہر وہ لاجواب ہونے لگے۔ مجمع میں ایک جاہل مسلمان بیٹھا ہوا تھا جو معمولی تجارت کر کے اپنا کام چلاتا تھا۔ اس کو یہ منظر دیکھ کر غیرت آئی۔ وہ اٹھ کر مولوی صاحب کے پاس آیا اور کہا کہ آپ بیٹھ جائیے۔ یہ پادری جاہل ہے ۔ اور میں بھی جاہل ہوں۔ جاہل کا مقابلہ جاہل ہی کر سکتا ہے، یہاں عالم کا کوئی کام نہیں۔ اس مسلمان نے پادری صاحب سے کہا۔ اب بتائیے کہ آپ کیا کہتے ہیں۔ پادری نے پُر اعتماد لہجہ میں دہرایا کہ ہم یہ کہتے ہیں کہ عیسیٰ مسیح خدا کے بیٹے ہیں۔ مسلمان نے بات کو مزید پختہ کرنے کے لیے کہا کہ آپ کا یہ کہنا ہے کہ حضرت عیسیٰ اللہ کے بیٹے ہیں اور اللہ میاں ان کے باپ ہیں، پادری نے کہا ہاں۔ اب مسلمان نے پوچھا، اچھا یہ بتائیے کہ اللہ میاں کی عمر کتنی ہوگی۔ پادری نے کہا کہ بے وقوفوں، یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے۔ اللہ میاں ازل سے ابد تک ہیں۔ ان کی عمر کیسے متعین کی جاسکتی ہے۔ عمر تو اس کی ہوتی ہے جو محدود ہو، خدا تو لامحدود ہے۔ مسلمان نے دوبارہ سوال کیا کہ ٹھیک ہے۔ آپ یہ بتائیے کہ اتنی لمبی زندگی میں اللہ میاں کے یہاں کتنی اولاد ہوئی۔ پادری نے کہا صرف ایک، عیسیٰ مسیح، وہ اللہ کے اکلوتے بیٹے ہیں۔ مسلمان نے کہا۔ لاحول ولاقوة، مجھے دیکھو۔ میری عمر ۵۲ سال کی ہے۔ اور میں ۱۲ بچے پیدا کر چکا ہوں۔ اللہ میاں کی عمر اربوں اور کھربوں سال سے بھی زیادہ ہے اور آپ بتارہے ہیں کہ یہاں صرف ایک اولاد ہوئی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader