مانع جرم
Urdu book, p. 44
By Maulana Wahiduddin Khan
مانع جرم ایک مفکر کا قول ہے : یعنی سزا کی سختی آدمی کو جرم سے نہیں روکتی۔ یہ سزا کی ناگریزیت ہے جو مانع جرم کا کام کرتی ہے۔ یہ قول بہت با معنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان اس قدر سرکش ہے کہ صرف سزا کا امکان اس کے لیے اتنا طاقتور محرک نہیں کہ وہ اس کو جرم سے روک دے۔ آدمی جرم سے صرف اس وقت رکتا ہے جب کہ اس کو یقین ہو کہ اگر اس نے جرم کیا تو وہ کسی حال میں اس کے انجام سے بچ نہیں سکے گا۔ مثال کے طور پر ایک شخص جنگل میں بے ہتھیار چلا جا رہا ہے ۔ اتنے میں وہ دیکھتا ہے کہ قریب کی جھاڑی میں ایک زندہ شیر موجود ہے ۔ ایسے موقع پر وہ سانس روک لے گا اور نہایت آہستگی کے ساتھ آگے بڑھ جائے گا ۔ کوئی بھی بے ہتھیار آدمی جنگل کے کھلے ہوئے شیر کو نہیں چھیڑتا۔ مگر یہی انسان جب انسانی بستی میں آتا ہے تو وہ دوسرے انسانوں کو چھیڑتا ہے۔ اس فرق کی وجہ کیا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کو یقین ہے کہ اگر اس نے جنگل کے شیر کو چھیڑا تو اس کے بُرے انجام سے وہ بچ نہیں سکتا۔ اس کے برعکس اپنے جیسے انسان کو چھیڑنے میں یہ اندیشہ نہیں ہوتا۔ یہاں اس کو بھروسہ ہوتا ہے کہ کسی نہ کسی تدبیر سے وہ اپنے آپ کو اس کے انجام سے بچانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ انسان کی یہ نفسیات بتاتی ہے کہ انسان کو جرم سے باز رکھنے کی صرف ایک ہی ممکن تدبیر ہے۔ وہ یہ کہ اس کے اندر اس حقیقت کا یقین پیدا کیا جائے کہ اس کے اوپر ایک خدا ہے جو ہر آن اس کو دیکھ رہا ہے۔ آدمی کسی حال میں اس کی پکڑ سے بچ نہیں سکتا۔ انسانی قانون میں یہ ناگریزیت نہیں، اس لیے انسانی قانون پوری طرح مانع جرم نہیں بنتا۔ مگر خدائی قانون میں ناگریزیت ہے۔ اس لیے صرف اسی کے اندر یہ طاقت ہے کہ وہ آدمی کو جرم سے باز رکھے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader