نئے دور کے کنارہ پر
Urdu book, p. 46
By Maulana Wahiduddin Khan
نئے دور کے کنارہ پر امریکہ میں ایک کتاب چھپی ہے ۔ یہ ان لوگوں کے بارہ میں ہے جو بہت زیادہ دولت مند ہیں۔ اس میں ۳۰ بڑے بڑے دولت مندوں کے مفصل انٹرویو درج کیے گیے ہیں۔ یہ وہ امریکی سرمایہ دار ہیں جن کا سرمایہ ۱۹۸۷ء کے اندازہ کے مطابق ۴۲۵ ملین ڈالر تھا۔ کتاب کا نام یہ ہے : ان سرمایہ داروں کے پاس ممکن مسرفانہ خرچ سے بھی زیادہ رقم ہے۔ ان کے پاس اتنے بڑے بڑے مکانات ہیں جن کے اندر ہوائی جہازوں کے اترنے کے لیے رن وے (Runway) تک موجود ہے ۔ وغیرہ (ٹائم ۱۳ فروری ۱۹۸۹) تا ہم وہ اپنی دولت سے پریشان ہیں۔ ایک دولت مند نے کہا کہ میرا مکان مجھ کو ایک وسیع قسم کا سر سبز پنجرہ (Verdant cage) معلوم ہوتا ہے۔ ایک اور دولت مند نے کہا کہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر میں اس کو کیا کروں : I don't know what the hell to do with it. ان دولت مندوں کو اکتاہٹ کے علاوہ اور بھی مسائل درپیش ہیں۔ مثلاً ایک دولت مند نے کہا کہ اس کے بچے جلد ہی خود کروڑپتی (Millionaires) ہو جائیں گے ۔ وہ اپنی ۳۰ ملین ڈالر کی دولت کا کوئی حصہ انھیں دینا نہیں چاہتا۔ کیوں کہ زیادہ دینا ان کو خراب کر دے گا : Giving more just spoils them. مصنف وانس پیکارڈ جو خود اقتصادیات کا عالم ہے، اس نے تفصیلی جائزہ کے بعد اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ تھوڑے سے افراد کے درمیان زیادہ دولت کا اجتماع بہت برا ہے۔ یہ سرمایہ داری کی اچھی صحت کے لیے خطر ناک ہے۔ اس کے علاج کے لیے مصنف نے ایک تجویز پیش کی ہے ۔ ایک خاص مقدار ، مثلاً ۲۵ ملین ڈالر کے بعد ، پوری دولت پر ٹیکس لگانا : Taxing net worth above a certain level (say, $ 25 million).

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader