Urdu book · عظمتِ اسلام

سائنس داں کی گواہی

Urdu book, p. 99

By Maulana Wahiduddin Khan

سر جیمز جینز کی اپنی کیفیت یہ تھی کہ سر کے بال سیدھے اٹھے ہوئے تھے ۔ آنکھوں سے حیرت و خشیت کی دوگونہ کیفیات عیاں تھیں ۔ اللہ کی حکمت و دانش کی ہیبت سے ان کے ہاتھ قدرے کانپ رہے تھے اور آواز لرز رہی تھی ۔ فرمانے لگے : عنایت اللہ خاں ، جب میں خدا کے تخلیقی کارناموں پر نظر ڈالتا ہوں تو میری تمام ہستی خدا کے جلال سے لرزنے لگتی ہے ۔ اور جب میں چرچ میں خدا کے سامنے جھک کر کہتا ہوں کہ تو بہت بڑا ہے ، تو میری ہستی کا ہر ذرہ میرا ہمنوا بن جاتا ہے ۔ مجھے بے حد سکون اور خوشی نصیب ہوتی ہے ۔ دوسروں کی نسبت مجھ کو عبادت میں ہزار گنا زیادہ کیف ملتا ہے ۔ کہو عنایت اللہ ، کیا تمہاری سمجھ میں آیا کہ میں چرچ کیوں جاتا ہوں ۔ علامہ عنایت اللہ مشرقی کہتے ہیں کہ پروفیسر جیمز کی اس تقریر نے میرے دماغ میں عجیب کہرام پیدا کر دیا ۔ میں نے ان سے کہا کہ جو جناب والا ، میں آپ کی روح افروز تفصیلات سے بے حد متاثر ہوا ہوں ۔ اس سلسلہ میں قرآن کی ایک آیت مجھے یاد آگئی ۔ اگر اجازت ہو تو اس کو پیش کروں ۔ انہوں نے کہا کہ ضرور ۔ اس کے بعد میں نے یہ آیت پڑھی : وَمِنَ الجِبال جُدَدٌ بِيضُ وَحُمْرٌ مختلف اور پہاڑوں میں سفید اور سرخ مختلف رنگوں کے الوانها و غرابيب سود ۔ ومن الناس ٹکڑے ہیں ، اور گہرے سیاہ بھی ۔ اور اسی طرح والد اب والأنعام مختلف الوانه انسانوں اور جانوروں اور چوپایوں میں بھی مختلف كذلك ـ انما يخشی الله من عباده رنگ کے ہیں ۔ اللہ سے اس کے بندوں میں سے العلماء (فاطر ۲۷ - ۲۸) صرف وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں ۔ اس آیت کو پڑھنے کے بعد علامہ مشرقی نے اس کا انگریزی ترجمہ انہیں سنایا ۔ اس کو سنتے ہی پروفیسر جیمز بولے : کیا کہا ۔ اللہ سے صرف علم والے لوگ ڈرتے ہیں ، حیرت انگیز ، بہت عجیب ۔ یہ بات جو مجھے پچاس برس مسلسل مطالعہ و مشاہدہ کے بعد معلوم ہوئی ، محمد کو کس نے بتائی ۔ کیا قرآن میں واقعی یہ آیت موجود ہے۔ اگر ہے تو میری شہادت لکھ لو کہ قرآن ایک الہامی کتاب ہے ۔ محمد ان پڑھ تھے۔ ان کو یہ عظیم حقیقت خود بخود معلوم نہیں ہو سکتی ۔ ان کو یقیناً اللہ نے یہ بات بتائی ۔ بہت خوب ، بہت عجیب ۔ علم میں اضافہ اللہ کی معرفت میں اضافہ کرتا ہے ۔ آدمی کا علم جتنا بڑھتا ہے اتنا ہی زیادہ اللہ پر اس کا یقین بڑھتا چلا جاتا ہے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page