اسلام کی طاقت
Urdu book, p. 152
By Maulana Wahiduddin Khan
تاشقند کے ریلیجس بورڈ کو دے رہا ہے تاکہ امام اسماعیل البخاری کے مزار کے ساتھ ایک بڑا اسلامک سنٹر قائم کیا جا سکے ۔ (صفحہ (۲۱) سعودیہ کا اسلامک بنک ایک منصوبہ کو تین لاکھ ڈالر (300,000 $) کی مدد دے رہا ہے تاکہ دوشنبی (Dushanbe) میں ایک بڑا دینی مدرسہ قائم کیا جا سکے ۔ اسی طرح دوسرے مسلم ممالک بھی اس علاقہ میں اسلام کے فروغ کے لیے مختلف طریقہ سے اپنا تعاون دے رہے ہیں ۔ نیوز دیلک نے مزید لکھا ہے کہ دو سال پہلے تاجکستان میں صرف ۱۸ مسجدیں تھیں۔ آج مسلم ذمہ داروں کے بیان کے مطابق ، یہاں ۲۵۰۰ سے زیادہ مسجدیں ہیں : اشتراکی نظام کے تحت آنے سے پہلے یہاں جو مسلمان تھے ، ان میں سے بیشتر اس مدت میں وفات پا چکے ۔ اب اس علاقہ میں جو مسلم نسلیں ہیں وہ زیادہ تر وہی لوگ ہیں جو اشتراکی نظام کے دور میں پیدا ہوئے ۔ جنھوں نے اشتراکی ماحول میں پرورش پائی اور اشتراکی اداروں میں تعلیم و تربیت حاصل کی۔ اس کے باوجود ان کے درمیان اسلام باقی رہا اور آزادی پاتے ہی از سر نو دوبارہ زندہ ہو گیا۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ کوئی حکومت خواہ وہ کتنی ہی زیادہ طاقت ور ہو ، وہ اس پر قادر نہیں ہو سکتی کہ مسلمانوں کے اندر سے ان کے اسلامی تشخص کو مٹا دے ۔ قرآن کے مطابق ، خدا کا دین اب خشیت انسانی کے دور سے نکل کر خشیت ربانی کے دور میں داخل ہو چکا ہے (المائدہ ۳) اب اسلام اتنا مستحکم ہو چکا ہے کہ کوئی بھی طاقت اس کو نقصان پہنچانے پر قادر نہیں۔ اب اندیشہ تمام تر خدا کی طرف سے ہے نہ کہ انسان کی طرف سے ۔ خدا کی طرف سے اسلام کو کامل اور مستحکم دین قرار دیا جاتا اس بات کی ضمانت ہے کہ کوئی بھی طاقت اسلام کو مستقل نوعیت کا نقصان نہ پہنچا سکے ۔ دوسروں کی طرف سے اسلام اور اہل اسلام کو وقتی قسم کا ضرر پہنچ سکتا ہے۔ مگر اس قسم کی کوئی حالت دیر تک باقی رہنے والی نہیں۔ جب بھی ایسا ہوگا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حالات میں ایسی تبدیلی لائی جائے گی کہ مخالفین اسلام کے تمام منصوبے ڈھہ جائیں ۔ اسلام کا سورج وقتی بدلی سے نکل کر دوبارہ آفاق میں چمکنے لگے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader