آنے والی صدی
Urdu book, p. 163
By Maulana Wahiduddin Khan
آنے والی صدی دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ نے عالمی سیاست میں جو فوقیت حاصل کی، اس کے بعد سمجھا جانے لگا تھا کہ اب امن برطانیہ (Pax Britanica) کا دور ختم ہوگیا، اور امن امریکہ (Pax Americana) کا دور شروع ہوگیا ہے۔ ۱۹۹۰ میں ایک طرف خلیج کی جنگ میں غیرمعمولی فتح اور دوسری طرف روس کے سپر پاور کی حیثیت سے خاتمہ نے امریکی دانشوروں کو اس یقین تک پہنچایا ہے کہ اب انسانی تاریخ امریکی بالا دستی کے دور میں داخل ہوگئی ہے۔ اور اکیسویں صدی بلاشبہ امریکی صدی (American century) ثابت ہوگی۔ موجودہ زمانہ میں امریکی مغربی تہذیب کا قائد ہے۔ چنانچہ اس واقعہ کو مغربی تہذیب کی برتری کے ہم معنی سمجھا جارہا ہے۔ ممتاز امریکی دانشور فرانس فوکو یامی (Francis Fukuyame) نے اس سلسلہ میں متعدد آرٹیکل اور غیر امریکی جرنلوں میں شائع کیے ہیں۔ تین حوالے یہ ہیں : The End of History, The National Interest, Summer 1989 Are We Witnessing the End of History, Sunday Star, September 1989 Are We at the End of History, Fortune, January 1990 ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صدی جو اپنے خاتمہ کو پہنچ رہی ہے وہ اقتصادی اور سیاسی آزادی کے اصول کی واضح فتح (unabashed victory of economical and political liberalism) پر فتح ہو رہی ہے۔ ہم غالباً انسانیت کے نظریاتی ارتقاء کے نقطہ کمال کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ اور یہ کہ مغرب کی آزاد جمہوریت اب انسانی حکومت کے آخری نظام کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آگئی ہے : We may be witnessing the end point of mankind's ideological evolution and the emergence of western liberal democracy as the final form of human government. اسی قسم کا دعویٰ ۵۰ سال پہلے کمیونسٹ روس نے کیا تھا، اب یہی دعویٰ سرمایہ دار امریکہ کر رہا ہے۔ مگر اشتراکی ڈکٹیٹر شپ کا جو انجام ہوا، وہی انجام یقینی طور پر مغربی لبرلزم کا بھی ہونے والا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader