نیا مستقبل
Urdu book, p. 170
By Maulana Wahiduddin Khan
نیا مستقبل اسلام اللہ تعالیٰ کا آخری دین ہے۔ اس کو ہر حال میں محفوظ اور قائم رہنا ہے۔ اس لیے شروع سے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ بڑا عجیب رہا ہے۔ ساتویں صدی عیسوی میں جب اسلام کو مکہ سے نکالا جارہا تھا تو وہ مدینہ میں داخل ہو کر اپنے لیے عالمی فتوحات کے دور کا آغاز کر رہا تھا۔ عباسی دور میں جب تاتاریوں نے خلافت کے قلعہ کو مسمار کر دیا تو اسی قلعہ کے ملبہ سے وہ نیا شاندار دور برآمد ہو گیا جو ترکی میں عثمانی خلافت اور برصغیر ہند میں مغل شہنشاہیت کے روپ میں ظاہر ہوا۔ آج بیسویں صدی عیسوی کے آخر میں اسلام دوبارہ ایک نئے عہد کے دروازہ پر کھڑا ہوا ہے، ایک ایسا دروازہ جس میں داخل ہو کر خدا کا دین پوری دنیا کو روشنی اور زندگی دینے کا ذریعہ بن جائے۔ برصغیر ہند کے سیاسی لیڈروں نے 1942 میں کوئٹ انڈیا (Quit India) کا نعرہ دیا تھا۔ یعنی اے انگریزو، ہندوستان چھوڑ دو۔ اس نعرہ کے بعد انگریز کی عظیم شہنشاہیت ہل گئی۔ یہاں تک کہ صرف پانچ سال کے اندر، 1947 میں اس کو مکمل طور پر ہندوستان کو چھوڑ دینا پڑا۔ وہ ہندوستان کو ہندوستانیوں کے حوالے کر کے اس ملک سے واپس چلے گئے ۔ آج یہ واقعہ بالکل سادہ سا معلوم ہوتا ہے۔ مگر، 1947 سے پہلے یہ ایک انوکھا واقعہ تھا حتی کہ بہت سے لوگ آخر وقت تک اس پر یقین کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ 1947 میں میں کانپور میں تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس وقت کا نپور کے ایک اردو اخبار نے اپنے ایڈیٹوریل میں لکھا تھا کہ انگریز آزادی کی بات کر کے ہندوستانیوں کو بے وقوف بنا رہا ہے۔ بھلا وہ اس سونے کی چڑیا کو چھوڑ کر یہاں سے جاسکتا ہے۔ مگر پندرہ اگست، 1947 کو ساری دنیا نے جان لیا کہ یہ انوکھا واقعہ ہو گیا اور انگریز ہندوستان کو ہندوستانیوں کے حوالے کر کے چلا گیا۔ اسی طرح آج اسلام کے احیاء کے لیے بھی شاندار امکانات موجود ہیں۔ جو لوگ صرف ظاہری چیزوں کو دیکھنے والی نظر رکھتے ہیں۔ انھیں اس قسم کی بات محض خوش فہمی معلوم ہوتی ہے۔ مگر حالات کو زیادہ گہرائی کے ساتھ دیکھے تو یہ بات عین ہونے والی بات نظر آنے لگے گی ۔ آج ہمیشہ سے زیادہ یہ موقع ہے کہ اسلام کو دوبارہ عالمی فکری طاقت کا درجہ دیا جا سکے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader