صداقت اسلام
Urdu book, p. 171
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام کی صداقت کا ایک ناقابل انکار ثبوت یہ بھی ہے کہ اسلامی انقلاب سے جو نظامات وجود میں آئے، وہ ہمیشہ انسانیت کے لیے مفید ثابت ہوئے۔ اور غیر اسلامی انقلاب سے جو نظامات وجود میں آئے، وہ ہمیشہ انسانیت کے لیے مضر ثابت ہوئے۔ مثلاً جدید آزاد دنیا میں سائنس، جمہوریت، شہری آزادی وہ چیزیں ہیں جو اسلامی انقلاب کے نتیجہ میں پیدا ہوئی تھیں۔ یہ چیزیں انسانیت کے لیے خیر ثابت ہوئیں۔ اگرچہ غلط استعمال کی بنا پر ان سے انسانیت کو بعض نقصانات بھی پہنچے، مگر اصولی اعتبار سے یہ چیزیں سراپا خیر تھیں۔ اس کے برعکس نیشنلزم، کمیونزم، نازی ازم وغیرہ وہ نظامت ہیں جو غیر اسلامی فکر اور غیر اسلامی انقلاب کے نتیجہ میں ظہور میں آئے۔ یہ چیزیں انسانیت کے لیے سراپا شر ثابت ہوئیں۔ ان کا معاملہ یہ ہے کہ ان کو جتنا زیادہ کامل صورت میں نافذ کیا جائے اتنا ہی زیادہ ان کا نقصان بڑھتا چلا جائے گا۔ ان کے نقصان میں اگر کچھ کمی ہوگی تو صرف اس وقت جب کہ انھیں ناقص صورت میں نافذ کیا گیا ہو۔ آپ پھل دار درخت بوئیں تو اس سے ہمیشہ پھل ہی ملے گا۔ اس کے برعکس اگر آپ کانٹے دار درخت بوئیں تو اس سے ہمیشہ کانٹے نکلیں گے۔ یہی اسلام اور غیر اسلام کا معاملہ ہے۔ اسلام کا جز، یا کل جب بھی زندگی میں رائج کیا جائے گا، وہ زندگی میں تعمیری نتیجے پیدا کرے گا۔ اور غیر اسلام کو جب بھی رائج کیا جائے گا، وہ زندگی میں اپنے تخریبی نتیجے دکھائے گا، خواہ اس کو جزئی طور پر راج کیا گیا ہو یا کلی طور پر۔ موجودہ زمانہ میں انسان نے فطرت کے مطالعہ سے جو چیزیں دریافت کیں اور جو صنعتی تمدن بنایا وہ قدرت کی نشانیاں تھیں۔ اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ان کی حیثیت خدا کی نعمت کی تھی۔ مگر موجودہ زمانہ میں انسان کی ذہنی تشکیل کے لیے جو نظریات ظہور میں آئے وہ انسان کے اپنے دماغ کی پیداوار تھے۔ اس طرح جدید دور ایک تضاد میں مبتلا ہو گیا۔ ذرائع کے اعتبار سے اس کے پاس خدائی ذرائع تھے۔ مگر انسان کے اعتبار سے غیر خدائی انسان۔ اسلام اس تضاد کو ختم کرنے والا ہے۔ اسلام خدا کی طرف سے آیا ہوا دین ہے۔ انسان کو اسلامی فکر پر لے آنا گویا اس کو خدائی انسان بنانا ہے۔ اسلام کے پھیلنے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ذرائع خدائی ہیں اسی طرح انسان بھی خدائی ہو جائیں۔ اس تضاد کو ختم کرنے ہی میں انسانی فلاح کا راز چھپا ہوا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader