دین فطرت
Urdu book, p. 189
By Maulana Wahiduddin Khan
مسلمان اگر مغربی علوم اور مغربی ٹیکنالوجی میں مہارت پیدا کریں اور اس کے ذریعہ مغربی فونوں کو دوبارہ زیر کر کے دنیا میں اپنی جگہ حاصل کرنے کی کوشش کریں تو عملًا یہ تدبیر ان کے لیے سود مند نہ ہوگی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پچھلے کئی سو سال سے مغرب اس میدان میں مسلسل ترقی کرتا رہا ہے ۔ اور مسلمانوں کا حال یہ رہا ہے کہ ان صدیوں میں وہ صرف مغرب سے ناکام روایتی لڑائی لڑتے رہے ہیں۔ اس مدت میں انھوں نے جدید علوم اور ٹیکنالوجی میں کوئی ترقی نہیں کی۔ اس کے نتیجہ میں دونوں قوموں کا فرق اتنا زیادہ ہو چکا ہے کہ اب تقریباً ناممکن ہو گیا ہے کہ عام حالات میں اس کو دور کیا جاسکے۔ ایلون ٹافلر نے اپنی مشہور کتاب (Future Shock) میں لکھا ہے کہ مغربی دنیا انڈسٹریل اسٹیج سے گزر کر اب سپر انڈسٹریل اسٹیج میں داخل ہورہی ہے۔ مسلمان چونکہ ابھی تک انڈسٹریل اسٹیج میں بھی داخل نہیں ہوئے۔ ایسی حالت میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ مسلمان اگر اب سے اس رخ سے اپنا سفر شروع کریں تو ہزار کوشش کے بعد جب وہ انڈسٹریل اسٹیج میں داخل ہوں گے تو دنیا سپر انڈسٹریل اسٹیج میں داخل ہو چکی ہوگی اور وہ بدستور پیچھے کے پیچھے رہیں گے۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کے لیے اس کے سوا کوئی صورت نہیں کہ وہ اپنے احیاء کے لیے دوسرا راستہ تلاش کریں۔ یہ دوسرا راستہ صرف دعوت کا ہے۔ مسلمانوں کے لیے احیاء ثانی کی جدوجہد کا واحد طریقہ یہ ہے کہ وہ خدا کے دین کے داعی بن کر اٹھیں۔ لوگ مادیات کو فتح کر رہے ہیں۔ مسلمان لوگوں کے دلوں کو فتح کریں۔ لوگ زمین پر قبضہ کر رہے ہیں۔ مسلمان لوگوں کی روح اور دماغ پر قبضہ کریں۔ یہی واحد راستہ ہے۔ اس کے سوا مسلمانوں کے لیے زندگی کا کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ اسلام کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ایک ایسی طاقت دے دی ہے جو ہر دوسری طاقت کے اوپر ہے، جو ہر دوسری طاقت کو مسخر کر سکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی دعوت مسلمانوں کا دینی فریضہ بھی ہے اور وہی ان کے مسئلہ کا واحد حل بھی۔ اسلام آدمی کے فطری تقاضے کا جواب ہے۔ اسلام میں زندگی کا متوازن قانون ہے۔ اسلام میں وہ صحیح ترین رہنمائی ہے جس کو اختیار کر کے انسانیت کا قافلہ اپنی منزل کی طرف کامیاب سفر کر سکے۔ اسلام کی تعلیمات ان تضادات سے پاک ہیں جو دوسرے نظاموں میں پائی جاتی ہیں۔ اسلام وہ شاہراہ فراہم کرتا ہے جس میں دنیا کی بھی فلاح ہے اور آخرت کی بھی فلاح۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader