بے نفسی
Urdu book, p. 210
By Maulana Wahiduddin Khan
بے نفسی قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اگر کسی مسلمان کی موت کا وقت آجائے اور اس کو اپنے مال کے بارے میں وصیت کرنا ہے تو اس کو چاہیے کہ دو معتبر آدمیوں کو گواہ بنا کر وہ اپنی وصیت کرے۔ اس سلسلہ میں احکام بتاتے ہوئے فرمایا ہے کہ بعد کو گواہی دینے کے وقت اگر یہ بات علم میں آئے کہ ان دونوں گواہوں نے گواہی دینے میں کوئی حق تلفی کی ہے تو ان کی جگہ دوسرے دو شخص وراثت کے حق داروں میں سے کھڑے ہوں ۔ جو میت سے زیادہ قریبی تعلق رکھتے ہوں۔ یہ دوسرے دونوں آدمی قسم کھا کر کہیں کہ ہماری گواہی ان دونوں اولیٰ بالشہادۃ گواہوں کی گواہی سے زیادہ بر حق ہے (المائدہ ۱۰۶) اس آیت کا ایک ٹکڑا یہ ہے : مِنْ اَلَّذِيْنَ اِسْتَحَقَّ عَلَيْهِمُ الاوْلِيان (ان میں سے جن کا حق دبا ہے جو سب سے قریب ہوں میرت کے) اس آیت کے ایک لفظ (الاولبان) کی قرأت میں اختلاف ہے۔ الحسن نے اس کو الاوقلان پڑھا ہے۔ اور ابن سیرین نے اس کو الاؤلین پڑھا ہے۔ اس سلسلہ میں ایک روایت یہ ہے : عن ابی مجلز ان أبی بن كعب قرا ابو مجلز سے روایت ہے کہ ابی بن کعب نے یہ آیت من الذین استحق علیہم الاولیان پڑھی من الذین استحق علیہم الاولیان پس عمر نے ان فقال عمر عنه كذبت ۔ فتال سے کہا کہ تم نے جھوٹ کہا۔ انھوں نے کہا کہ تم خود زیادہ انت اكذب - فقال رجل تکذب جھوٹے ہو۔ یہ سن کر ایک شخص نے کہا کہ تم امیر المومنین امیر المومنین ۔ قال : انا اشد تعظیما کو جھوٹا کہتے ہو۔ انھوں نے کہا کہ میں تم سے زیادہ لحق امیر المومنین منك - ولكن امیرالمومنین کے حق کی تعظیم کرتا ہوں لیکن میں نے كذبته فى تصدیق کتاب الله، ان کو اللہ کی کتاب کی تصدیق کے معاملہ میں جھٹلایا ولم اصدق امیر المومنین ہے۔ میں نے کتاب اللہ کی تکذیب کے معاملہ میں فی تکذیب كتاب الله ۔ فقال عمر امیر المومنین کی تصدیق نہیں کی عمر نے یہ سن کر کہا کہ صدق (حياة الصحابة ۲ / ۴۷ - ۴۵) انھوں نے سچ کہا۔ اس واقعہ میں ایک صحابی نے دوسرے صحابی پر سخت تنقید کی جو کہ وقت کا سربراہ سلطنت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader