Urdu book · عظمتِ اسلام

سنتِ خداوندی

Urdu book, p. 219

By Maulana Wahiduddin Khan

سنتِ خداوندی غزوہ بدر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب پر نظر ڈالی تو وہ تین سو سے کچھ زیادہ تھے۔ پھر آپ نے مشرکوں کی طرف دیکھا تو وہ ایک ہزار سے زیادہ تھے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رو ہو کر سجدہ میں گر پڑے۔ اور آپ کے اوپر آپ کی چادر تھی۔ آپ کی زبان پر یہ الفاظ جاری ہو گئے : اللھم أنجز لي ما وعدتني اللهم ان اے اللہ، اس وعدہ کو پورا فرما جو تو نے مجھ سے تهلك هذه العصابة من اهل الاسلام کیا ہے۔ اے اللہ، اگر تو اہل اسلام کے اس گروہ فلا تعبد بعد في الارض ابدا کو ہلاک کر دے تو اس کے بعد زمین پر کبھی تیری عبادت نہ ہوگی۔ (البدایہ والنہایہ ٣ / ٢٠٥) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جیش اسامہ کی شام کی طرف روانگی اسلامی تاریخ کا نہایت اہم واقعہ ہے۔ اس وقت عرب میں بغاوت پھیل گئی تھی۔ مگر خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق کے اس مومنانہ اقدام نے از سر نو اسلام کا دبدبہ قائم کر دیا۔ اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : واللہ الذی لا الہ الا هو، لولا ان اس خدا کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اگر أبـا بـكـر استـخـلـف مـا عـبـد اللہ (رسول اللہ کے بعد) ابو بکر کو خلیفہ نہ بنایا جاتا تو اللہ کی عبادت نہ ہوتی۔ (البدایہ والنہایہ ٦ / ٣٠٥) یہ دونوں قول بظاہر بہت عجیب ہیں۔ چنانچہ حضرت ابو ہریرہ نے جب یہ کہا تو سننے والے بولے کہ اے ابو ہریرہ چپ رہو (مدھیا باهميرة) مگر یہ الفاظ عین حقیقت واقع کا اظہار تھے۔ اصل یہ ہے کہ اس قول کا تعلق اللہ کی سنت سے ہے نہ کہ اللہ کی قدرت سے۔ اللہ کے لیے بلاشبہ یہ ممکن ہے کہ وہ ہواؤں کے ذریعہ تمام مشرکوں کو ہلاک کر دے اور ایک لفظ کن کے ذریعہ تمام انسانوں کو اپنا عبادت گزار بنا دے۔ مگر موجودہ امتحان کی دنیا میں خود اللہ کے اپنے فیصلے کی بنا پر ایسا نہیں ہوتا۔ یہاں سارا کام اسباب وعلل کے پردہ میں انجام دیا جاتا ہے۔ مذکورہ قول

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page