اصحاب رسول
Urdu book, p. 220
By Maulana Wahiduddin Khan
اصحاب رسول خالد بن ولید اور عبدالرحمن بن عوف کے درمیان کسی بات پر اختلاف پیدا ہوا۔ اس موقع پر حضرت خالد کی زبان سے حضرت عبدالرحمن بن عوف کے لیے کچھ سخت کلمات نکل گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو فرمایا : لا تسبوا اصحابی ، لا تسبوا اصحابی ۔ میرے اصحاب کو برا نہ کہو، میرے اصحاب کو برا فوالذي نفسی بیدہ لو أنَّ أحدكم نہ کہو، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان أنفق مثل أُحد ذهباً ما بلغ ہے، اگر تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر مُدَّ احـــد هــم ولا نصيفه سونا بھی خرچ کر دے تو وہ ان کے ایک مد یا اس (مسلم ، باب تحریم سب الصحابه) کے نصف کے برابر بھی نہیں پہنچے گا۔ صحابہ کرام کی وہ کیا خاص صفت تھی جس کی بنا پر انہیں یہ امتیازی مقام ملا۔ قرآن کے لفظوں میں وہ تھی مشکل گھڑیوں میں اتباع کرنا (التوبہ ، ۱۱۷) فتح کا دور آنے سے پہلے قربانیاں پیش کرنا (الحدید ، ۱۰) آج پیغمبر اسلام کی رسالت ایک ثابت شدہ رسالت ہے۔ آپ کا نام بلند ترین عظمت کا نشان بن چکا ہے۔ آج آپ کے نام پر اٹھنے والے کو ہر قسم کی عزت اور ہر قسم کے مادی فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ ایسا آدمی فوراً قوم کے درمیان قائد کا مقام پالیا ہے۔ مگر جس وقت صحابہ کرام نے آپ کا ساتھ دیا، اس وقت یہ تمام امکانات ابھی مستقبل کے پردہ میں چھپے ہوئے تھے۔ وہ ابھی واقعہ بن کر لوگوں کے سامنے نہیں آئے تھے۔ صحابہ کرام کا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے حال کے پیغمبر کو اس کے مستقبل کی عظمتوں کے ساتھ دیکھا۔ انھوں نے بظاہر ایک عام انسان کو اس کے پیغمبرانہ جوہر کے ساتھ دریافت کیا۔ انھوں نے اس وقت پیغمبر کا ساتھ دیا جب کہ پیغمبر کا ساتھ دینے کا مطلب پوری قوم میں نکو بن جانا تھا۔ جب پیغمبر کی حمایت کرنے کا نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ آدمی اپنی قوم اور اپنی برادری کی حمایت سے محروم ہو جائے۔ صحابہ کرام کا ایمان ایک دریافت تھا۔ آج کے مسلمانوں کا ایمان ایک قومی تقلید ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader