بلند نظری
Urdu book, p. 246
By Maulana Wahiduddin Khan
بلند نظری ۱۸ھ کے آخر میں شام اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں طاعون کی وبا پھیلی۔ ۱۸ھ میں یہ وبا نہایت شدید ہوگئی۔ اس وقت شام کی مسلم فوجوں کے سپہ سالار ابو عبیدہ بن الجراح تھے۔ ان کی پالیسی یہ تھی کہ مسلمان جہاں ہیں وہیں ٹھہرے رہیں۔ حضرت ابو عبیدہ اس مرض میں مبتلا ہوئے اور اسی میں ان کا انتقال ہوگیا۔ ان کے بعد معاذ بن جبلؓ اس علاقہ کی مسلم فوجوں کے سپہ سالار مقرر ہوئے۔ ان کی پالیسی بھی وہی رہی جو حضرت ابو عبیدہ کی پالیسی تھی۔ حضرت معاذ بن جبل اس مرض میں مبتلا ہوئے اور ان کا بھی اسی مرض میں انتقال ہوگیا۔ اس کے بعد عمروبن العاصؓ اس علاقہ کی مسلم افواج کے سپہ سالار مقرر ہوئے۔ انھوں نے اپنی پالیسی بدلی۔ انھوں نے فیصلہ کیا کہ ہم اپنی موجودہ جگہ کو چھوڑ دیں۔ مورخ ابن کثیر لکھتے ہیں : فلما مات استخلف علی الناس پھر جب معاذ بن جبلؓ کی وفات ہو گئی تو عمروبن عمروبن العاص فقام فيهم خطيبا العاص لوگوں کے اوپر سردار مقرر ہوئے۔ انھوں فقال ۔ ایہا الناس، إن هذا الوجع نے کھڑے ہو کر لوگوں کے درمیان تقریر کی۔ انھوں إذا وقع فانما يشتعل اشتعال نے کہا کہ اے لوگوں، یہ بیماری جب آتی ہے تو وہ النار فتعصنوا منه فى الجبال۔ آگ کی طرح بھڑک اٹھتی ہے۔ پس تم لوگ پہاڑوں فقال ابو وائل الھذلی۔ کذبت میں اپنے آپ کو اس سے محفوظ کر لو۔ یہ سن کر واللہ - لقد صحبت رسول اللہ ابو وائل ہذلی نے کہا کہ خدا کی قسم تم نے جھوٹ کہا۔ صلی اللہ علیہ وسلم وانت شر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت پائی ہے۔ من حماري ھذا۔ فقال واللہ اور تم میرے اس گدھے سے بھی زیادہ برے ہو عمرو بن ما ارد عليك ما تقول العاص نے کہا کہ خدا کی قسم تم جو کہہ رہے ہو اس کا میں کوئی جواب نہیں دوں گا۔ ( البدایۃ والنھایۃ ۴۹/۷ ) یہ ایک مثال ہے جو بتاتی ہے کہ صحابہ کرام کے درمیان کتنی سخت تنقیدوں کا رواج تھا۔ ان کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader