Urdu book · عظمتِ اسلام

عجیب لوگ

Urdu book, p. 376

By Maulana Wahiduddin Khan

عجیب لوگ ایران حضرت عمر فاروق کے زمانہ خلافت میں فتح ہوا ہے۔ اس وقت ایران کی مسلم افواج کے سپہ سالار حضرت سعد بن ابی وقاص تھے۔ اس جنگ میں ایرانیوں کا کافی نقصان ہوا۔ چنانچہ انہوں نے گفت و شنید کی پیش کش کی۔ حضرت سعد نے مختلف وفود کو رستم اور یزد گرد کے دربار میں بھیجا۔ مثلاً نعمان بن مقرن۔ فرات بن حیان - حنظلہ بن ربیع - عطارد بن حاجب - اشعث بن قیس - مغیرہ بن شعبہ۔ عمر و بن معد یکرب کے وفود (البدایہ والنہایہ) ۷ / ۳۸ - ۳۹ تاریخ میں ان سفارتوں کی کافی تفصیلات آئی ہیں۔ آخری مرحلہ میں حضرت مغیرہ کا وفد شہنشاہ یزد گرد کے زرق برق دربار میں آیا۔ مدائن کے محل میں انھوں نے انتہائی بے خوبی کے ساتھ تقریر کی ۔ یزدگرد اس کو سن کر بگڑ گیا۔ اس نے کہا کہ تم میرے سامنے اس طرح کی باتیں کرتے ہو۔ اگر یہ قاعدہ نہ ہوتا کہ ایلچی قتل نہ کئے جائیں تو میں تم کو ضرور قتل کر دیتا۔ اب تم واپس جاکر اپنے امیر کو بتا دو کہ میں سپہ سالار رستم کی سرکردگی میں ایسا لشکر بھیجنے والا ہوں جو تم سب کو قادسیہ کے خندق میں دفن کر دے گا۔ پھر یزدگرد نے محل کے آدمیوں سے کہا کہ ایک ٹوکری میں مٹی بھر کر لاؤ۔ مٹی لائی گئی تو اس نے مسلمانوں کے وفد سے مخاطب ہو کر پوچھا کہ تم میں سب سے زیادہ شریف کون ہے۔ وفد کے افراد چپ رہے۔ اس کے بعد عاصم بن عمر و بولے کہ میں سب سے زیادہ شریف ہوں۔ یزد گرد نے حکم دیا کہ مٹی کی ٹوکری عاصم بن عمر و کے گلے میں لٹکائی جائے اور ان کو یہاں سے بھگا دیا جائے یہاں تک کہ وہ مدائن کے باہر چلے جائیں۔ شاہی حکم کے مطابق مٹی کی ٹوکری عاصم بن عمر و کے گلے میں لٹکا دی گئی۔ وہ اس کو لے کر مدائن کے محل سے نکلے اور اونٹنی پر سوار ہو کر تیزی سے قادسیہ کی طرف روانہ ہوئے جہاں حضرت سعد بن ابی وقاص مقیم تھے۔ وہاں پہنچ کر انھوں نے حضرت سعد کو ساری روداد سنائی اور مٹی کی ٹوکری ان کے سامنے رکھ دی۔ اس کے بعد مسلم سردار نے جو جواب دیا وہ یہ تھا :

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page