تاریخ کی آواز
Urdu book, p. 238
By Maulana Wahiduddin Khan
تاریخ کی آواز حضرت عمر فاروق رضی اللہ کی خلافت کے زمانہ میں ۱۹ ھ میں ایران فتح ہوا۔ اس زمانہ میں لوگوں کے ذہن پر ایرانی شہنشاہ کی اتنی عظمت تھی کہ حضرت عمر اس مہم کی سرپرہی کے لیے خود مدینہ سے روانہ ہونے کے لیے تیار ہو گئے ۔ مگر لوگوں نے اس کے خلاف مشورہ دیا۔ چنانچہ ایک صحابی حضرت سعد بن ابی وقاص کو اس مشکل مہم کا سپہ سالار بنایا گیا۔ اس مہم کا آخری معرکہ قادسیہ کے قریب ایک میدان میں ہوا۔ یہاں میدان جنگ کے کنارے ایک قدیم شاہی عمارت تھی۔ حضرت سعد اس کی چھت پر چڑھے اور میدان کی طرف رخ کرکے تکیہ کے سہارے بیٹھ گئے ۔ وہ جنگ میں خود شریک نہیں ہوئے ۔ اپنی جگہ خالد بن عرفط کو میدان مقابلہ کا سردار مقرر کیا۔ حضرت سعد عمارت کے اوپر بیٹھے ہونے مسلسل جنگ کا مشاہدہ کر رہے تھے اور حسب ضرورت اپنی ہدایات پرچی پر لکھ کر خالد بن عرفط کے پاس بھیجتے رہتے تھے۔ یہ جنگ اسلامی تاریخ کی انتہائی ہولناک جنگ تھی ۔ اس جنگ میں ایرانی ہاتھیوں کی فوج لائے تھے جن کا اس سے پہلے عربوں نے تجربہ نہیں کیا تھا۔ ایک موقع پر ہاتھیوں کی کالی آندھی نے مسلمانوں کو پیچھے ہٹا دیا۔ حضرت سعد یہ دیکھ کر بے تاب ہوگئے اور بار بار کمرہ ٹمیں بدلنے لگے۔ حضرت سعد کی اہلیہ سلمیٰ جو اس وقت ان کے پاس تھیں ، یہ دیکھ کر بول اٹھیں " کاش آج مشٹیٰ ہوتا "۔ حضرت سعد نے سلمیٰ کو تھپڑ مار کر کہا ۔ " مشٹیٰ ہوتا تو وہ کیا کر لیتا ؟ سلمی نے جواب دیا ۔ " سبحان اللہ، بزدلی کے ساتھ غیرت بھی"۔ سلمیٰ نے یہ بات اس لیے کہی کہ حضرت سعد خود لڑائی میں شریک نہیں تھے ۔ اس کے بعد تاریخ لمبی تفصیل بیان کرتی ہے کہ کس طرح مسلمانوں نے ایران کی فوجی تیاریوں کا مقابلہ کیا اور بالآخر شاندار فتح حاصل کی ۔ اس جنگ میں ایرانیوں کا سردار رستم تھا۔ رستم کو ہلال نامی ایک مسلمان سپاہی نے قتل کہا۔ اگرچہ فردوسی نے غلطی سے یہ سمجھا ہے کہ رستم کا مقابلہ حضرت سعد سے ہوا تھا۔ چنانچہ اس نے اپنے شاہنامہ میں لکھا ہے : زیک سوئے رستم زیک سوئے سعد

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader