Urdu book · عظمتِ اسلام

امکان ختم نہیں ہوتا

Urdu book, p. 159

By Maulana Wahiduddin Khan

مگر مایوسی کی آخری حد پر پہونچ کر اس کے لیے امید کی روشنی پیدا ہوگئی ۔ عین اسی زمانہ میں اندلس کے مسلمان بے سردار ہو کر آپس میں لڑ رہے تھے ۔ دمشق کے مرکز خلافت سے دور ہونے کی وجہ سے یہ حال تھا کہ دمشق اور قرطبہ کے درمیان ایک پیغام کے آنے جانے میں اکثر مہینوں لگ جاتے تھے۔ اس بنا پر اندلس کے اوپر دمشق کی مضبوط گرفت باقی نہیں رہی تھی۔ اندلس کے یہ حالات عبد الرحمن بن معاویہ کے لیے ایڈوانٹیج بن گئے ۔ وہ آبنائے جرا لٹر کو پار کر کے اندلس پہونچا۔ وہاں کے مسلمانوں کو ایک سردار کی ضرورت تھی۔ عبد الرحمن اپنی شخصی قابلیت نیز بنو امیہ کا ولی عہد ہونے کی وجہ سے بہت جلد وہاں کے لوگوں کا مرجع بن گیا اور بالآخر اس نے اندلس میں مضبوط مسلم سلطنت قائم کی۔ یہی امیر عبد الرحمن اندلس کی علمی اور تہذیبی ترقیوں کا بانی ہے ۔ وہ شخص جس کی تاریخ دمشق میں ختم ہو چکی تھی اس نے اپنی حوصلہ مندی کی بنا پر قرطبہ میں اپنی ایک نئی شاندار تاریخ بنائی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں کبھی کسی کے لیے امکان ختم نہیں ہوتا۔ جہاں ایک موقع ختم ہو وہیں دوسرا زیادہ بہتر موقع اس کے لیے موجود رہتا ہے ۔ جب ایک تاریخ اختتام پر پہونچتی ہے تو وہیں دوسری تاریخ کے آغاز کے امکانات شروع ہو جاتے ہیں ۔ مگر نئے امکانات کبھی اپنے آپ واقعہ نہیں بنتے۔ ان کو استعمال کرکے انھیں واقعہ بنانے کے لیے ایک حوصلہ مند انسان کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اگر آدمی اپنی ہمت نہ کھوئے ، اگر وہ نئی جد و جہد کی ضروری شرطیں پوری کرنے کے لیے تیار ہو تو اس کے لیے ناکامی کا سوال نہیں ۔ یہ دنیا خدا نے اسی لیے بنائی ہے کہ آدمی یہاں جد و جہد کرکے کامیاب ہو۔ اب جو شخص ناکام ہوتا ہے وہ اپنی نادانیوں سے ناکام ہوتا ہے، وہ خود اپنی کوتاہیوں کی سزا بھگتتا ہے۔ انسان کے لیے کبھی امکان ختم نہیں ہوتا " یہ جملہ اتنا ہی با معنی ہے جتنا یہ کہنا کہ " اس دنیا میں کبھی صبح کا آنا بند نہیں ہوتا" جس طرح ہر رات کے بعد صبح کا آنا یقینی ہے اسی طرح ہر ناکامی کے بعد دوبارہ کامیابی کا دور آنا یقینی ہے۔ تاہم رات کے بعد نئی صبح لانے کے لیے زمین و آسمان کو عظیم گردش کرنی پڑتی ہے۔ اسی طرح کسی آدمی کی زندگی میں ناکامی کے بعد کامیابی اس وقت آتی ہے جب کہ وہ اس کی خاطر عظیم جد و جہد کرنے کے لیے تیار ہو جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page