پکار کے وقت
Urdu book, p. 263
By Maulana Wahiduddin Khan
پکار کے وقت تھیو فینس (Theophilus) باز نطینی سلطنت کے آخری دور کا حکمران ہے۔ اس کا مرکز سلطنت قسطنطینہ تھا۔ اس کا زمانہ حکومت ۸۲۹ء تا ۸۴۲ء ہے۔ تھیو فینس عباسی خلیفہ المعتصم کا ہم عصر تھا۔ دور اول کے مسلمانوں نے قدیم رومی (باز نطینی) سلطنت کے بڑے حصہ کو پہلی صدی ہجری میں فتح کر لیا تھا۔ تاہم قسطنطینہ اب بھی باز نطینی حکمرانوں کے قبضہ میں تھا۔ موجودہ ترکی کے ایک حصہ پر اب بھی اس کی حکومت قائم تھی۔ قسطنطینہ کا باز نطینی بادشاہ تھیو فینس ۲۲۳ ھ (۸۳۸ء) میں ایک بڑا لشکر لے کر نکلا اور مسلم علاقہ میں پہونچ کر زبطرہ پر چھاپہ مارا۔ اسی کے ساتھ اس نے ملطیہ کے مسلم قلعہ پر حملہ کیا۔ ان حملوں میں اس نے بہت سے مسلمان مردوں اور عورتوں کو قتل کیا۔ انھیں گرفتار کیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس نے کچھ لوگوں کا مُثلہ کیا۔ اس موقع پر ایک واقعہ یہ پیش آیا کہ باز نطینی سپاہیوں نے ایک عرب عورت کو پکڑا اور اس کو گھسیٹتے ہوئے لے چلے۔ عورت چلا اٹھی۔ اس کی زبان سے نکلا : واعتصماه (ہائے معتصم) خلیفہ المعتصم اس وقت بغداد میں تھا۔ وہاں سے آنے والوں نے خلیفہ کو باز نطینی حکمراں کے مظالم کی خبریں بتائیں۔ اسی کے ساتھ مذکورہ عرب عورت کا قصہ بھی بتایا۔ المعتصم اس کو سن کر تڑپ اٹھا۔ اس وقت وہ اپنے تخت پر بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے واعتصماہ کا لفظ سنا تو اسی وقت لبیک لبیک کہتے ہوئے تخت سے اٹھ کھڑا ہوا۔ وہ اپنے محل کی چھت پر چڑھا اور پکار کر کہا : النفير، النفير (کوچ، کوچ)۔ اس کے بعد المعتصم نے زبردست تیاری کی اور ایک طاقت ور فوج کو لے کر مقام حادثہ کی طرف روانہ ہوا۔ یہاں تک کہ وہ عموریہ (Amorium) پہونچ گیا۔ عموریہ (ترکی) اس وقت باز نطینیوں کے قبضہ میں تھا اور یہاں ان کا قلعہ تھا۔ المعتصم نے قلعہ کو گھیر لیا اور حکم دیا کہ منجنیق کے ذریعہ اس پر گولے برسائے جائیں۔ یہاں تک کہ اس کی دیواریں ٹوٹ گئیں۔ المعتصم اپنی فوج کو لے کر قلعہ کے اندر داخل ہوگیا۔ اہل قلعہ نے ہتھیار ڈال دیئے۔ المعتصم نے تمام مسلم قیدیوں کو چھڑایا اور اس عرب عورت کو بھی قید سے رہا کیا جس نے اس سے پہلے واعتصماہ کہہ کر خلیفہ کو پکارا تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader