اسلامی شجاعت
Urdu book, p. 366
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلامی شجاعت حطین کی جنگ (۱۱۸۷ء) تاریخ کی مشہور جنگ ہے۔ حطین شمالی فلسطین کا ایک مقام ہے۔ صلاح الدین ایوبی نے اسی مقام پر اپنی غیر معمولی جنگی منصوبہ بندی کے ذریعہ صلیبی فوجوں پر فتح حاصل کی۔ اس وقت مسلم فوج کی تعداد ۱۸ ہزار رکھتی، اور عیسائی فوج کی تعداد ۱۵ ہزار۔ جنگ میں بیشتر عیسائی فوجی مارے گیے ۔ اور مسلمانوں کو فیصلہ کن فتح حاصل ہوئی ۔ جنگ کے بعد بہت سے عیسائی سردار گرفتار ہوئے۔ ان میں یروشلم کا بادشاہ (Guy de Lusignan) اور فرانسیسی جنرل ریجینالڈ (Reginald) بھی شامل تھا۔ ریجینالڈ کے متعلق مورخین متفق ہیں کہ اس نے صلاح الدین ایوبی کے ساتھ بار بار غدر کا معاملہ کیا تھا۔ انسائیکلو پیڈیا برطانیکا (۱۹۸۳ء) نے لکھا ہے کہ ریجینالڈ ۱۱۴۷ء اور ۱۱۸۷ء کے درمیان ہونے والی صلیبی لڑائیوں میں اہم فوجی شخصیتوں میں سے ایک تھا جس کی صلح کی مدت کے دوران مسلم قافلوں پر عاقبت اندیشانہ حملوں کی پالیسی آخر کار یروشلم کی لاطینی بادشاہت کی بربادی اور اس کے بیشتر علاقوں کے کھوئے جانے کا سبب بنی : One of the leading military figures of the Crusades between 1147 and 1187, مورخ ابن شداد نے لکھا ہے کہ ریجینالڈ نے ایک بار مسلم قافلہ پر دھوکے سے حملہ کیا ۔ انھوں نے اس کو خدا کا واسطہ دلایا۔ اور اس معاہدہ صلح کا واسطہ دیا جو اس کے اور مسلمانوں کے درمیان ہوا تھا۔ مگر ریجینالڈ نے کہا کہ اپنے محمد سے کہو، وہ تمہیں بچائے۔ یہ خبر جب صلاح الدین ایوبی تک پہنچی تو اس نے نذر مانی کہ اللہ جب اس کے اوپر مجھے فتح دے گا تو میں خود اس کو قتل کروں گا (انه لما غدر بالقافلة ناشد وا الله والصلح الذى بينه وبين المسلمين ۔ فقال : قولوا لمحمتكم يخلصكم - فلما بلغته ذلك عنه نذر انه متى اظفره الله به قتله بنفسه، صفحه ۱۲۷)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader