تاریخ کا
Urdu book, p. 209
By Maulana Wahiduddin Khan
سلطان ابو الحسن پر فالج کا حملہ ہوا اور اس کی بینائی بھی ختم ہوگئی۔ سلطان ابو الحسن اس کے بعد غرناطہ کے تخت سے دستبردار ہوگیا اور اپنی جگہ اپنے بھائی ابو عبداللہ زغل کو سلطان مقرر کیا۔ اس کے بعد ایک سازش کے تحت ابو عبداللہ زغل کو سلطنت سے ہٹا دیا گیا اور ابو عبد اللہ محمد پوری سلطنت غرناطہ کا حکمراں بن گیا۔ مگر اس کے اندر اپنے باپ والی دانشمندی موجود نہ تھی۔ چند مقابلوں میں اس نے مسیحی حکمران سے شکست کھائی۔ آخری مرحلہ میں غرناطہ کے قلعہ کو مسیحی فوجوں نے گھیر لیا۔ ابو عبداللہ محمد جس نے اپنے اور اپنے چچا کے مقابلہ میں بہادری دکھائی تھی وہ مسیحی فوجوں کے مقابلہ میں صرف بزدل ثابت ہوا۔ آخرکار ۲ جنوری ۱۴۹۲ کو اس نے قلعہ اور غرناطہ کی دستبرداری کے معاہدہ پر دستخط کر دیے۔ اس معاہدہ پر ایک طرف فاتح فردی نند نے اپنا دستخط ثبت کیا۔ اور دوسری طرف مفتوح ابو عبداللہ محمد نے۔ ایک مورخ نے اسپین کے مذکورہ واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ غرناطہ کے آخری مسلم حکمراں سلطان ابوالحسن نے فردی نند اور از بیلا کو شکست دی تھی۔ مگر اس کے اپنے لڑکے ابو عبداللہ نے اس کے خلاف بغاوت کر دی جو آخر کار اس کے باپ کے زوال کا سبب بنی۔ The last ruler of Granada, Sultan Abul-I Iasan, defeated Ferdinand 11 (1452-1516) and Queen Isabella, but his own son, Abu Abdullah, made a coup against his father which resulted to the downfall of his father. اس دنیا میں باہمی اتحاد سب سے بڑی طاقت ہے اور باہمی اختلاف سب سے بڑی کمزوری۔ یہ بلاشبہ تاریخ کا سب سے بڑا سبق ہے ۔ اختلاف کا سبب کیا ہوتا ہے اور اتحاد کس طرح پیدا ہوتا ہے ۔ اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ جب لوگوں کے اوپر ذاتی مفاد کا غلبہ ہو جائے تو ان کے درمیان اختلاف ابھر آئے گا۔ اور جب وہ قومی مفاد کو اہمیت دیں تو وہ باہم متحد رہیں گے۔ قوم کے وسیع تر مفاد کا احساس انفرادی اختلافات پر غالب آ جاتا ہے۔ لوگ اختلاف کے باوجود متحد رہتے ہیں۔ لوگ اختلاف کے باوجود اپنے اپنے اختلاف کو اپنی ذات تک رکھتے ہیں، وہ اپنے اختلاف کو اجتماعی تعلق میں موثر نہیں ہونے دیتے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader