ماضی اور حال
Urdu book, p. 261
By Maulana Wahiduddin Khan
بینا و بینك ۔ (تاریخ الخلفاء للسيوطی ، ۲۶) سے پہلے پہنچا اس کو مجھے لوٹا دو۔ ورنہ ہمارے اور تمہارے درمیان تلوار ہے۔ ہارون الرشید نے جب اس خط کو پڑھا تو وہ سخت غضب ناک ہو گیا۔ اس کے بعد اس نے متلم دوات منگوائی۔ اور اسی خط کی پشت پر اپنے قلم سے یہ الفاظ لکھ کر بھیج دیے کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم ، ہارون امیر المومنین کی طرف سے رومی کتے نقیفور کے نام ، اے کافر عورت کے بچے ، میں نے تمہارا خط پڑھ لیا۔ اس کا جواب تم جلد ہی دیکھ لو گے (۲۶۸) اس جواب کو بھیجنے کے فوراً بعد خلیفہ نے تیاری کا حکم دے دیا۔ اور پھر ایک طاقت ور فوج لے کر تیزی سے رومی علاقہ کی طرف روانہ ہوا۔ اس نے نقیفور سے کئی لڑائیاں لڑا کر اس کو بری طرح شکست دی۔ یہاں تک کہ وہ مجبور ہو گیا کہ دوبارہ بغداد کو خراج دینے پر راضی ہو جائے۔ نقیفور سے پہلے ملکہ آئرین (Irene) رومی تخت کی وارث تھی۔ ۸۰۲ میں ایک انقلاب ہوا اور ملکہ آئرین کی حکومت ختم ہو گئی نقیفور ۱۱۱ تک حکمراں رہا : When Nicephorus withheld the tribute that Irene had agreed to pay the Baghdad calipah Harun ar-Rashid, was followed, and Arab forces defeated the Byzantine emperor at Crasus in Phrygia (805). In 806 Harun captured Heraclea, Tyana, and other places. Nicephorous was forces to agree to pay a yearly tribute of 30,000 gold pieces. (EB-VII/322) جب نقیفور نے اس خراج کو روک دیا جس کو ملکہ آئرین نے بغداد کے خلیفہ ہارون الرشید کو دینا منظور کیا تھا تو دونوں کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔ عرب فوجوں نے بازنطینی بادشاہ کو ۸۰۵ میں کر اس کے مقام پر شکست دی۔ ۸۰۶ میں ہارون نے ایشیائے کوچک پر ایک لاکھ ۳۵ ہزار سے زیادہ لشکر کے ساتھ حملہ کیا اور ہر قل اور تیانہ اور دوسرے مقامات پر قبضہ کر لیا۔ نقیفور کو اس پر مجبور کر دیا گیا کہ وہ بغداد کو سالانہ ۳۰ ہزار سونے کا سکہ ادا کرے ۔ دور اول کے مسلمانوں کی طاقت کا راز صرف تلوار نہ تھی۔ ان کی طاقت کا اصل راز یہ تھا کہ وہ علم میں دوسری قوموں سے حیران کن حد تک آگے بڑھے ہوئے تھے۔ علم ہی کے ذریعہ آدمی حقیقتوں سے واقف ہوتا ہے۔ علم ہی کے ذریعہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ اعلیٰ درجہ کی منصوبہ بندی کر سکے علم اس دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader