مفاد کی قربانی
Urdu book, p. 291
By Maulana Wahiduddin Khan
سلطنت کا خاتمہ کر دے۔ ظاہری حالات کے اعتبار سے ایسا محسوس ہونے لگا کہ اب اسپین کی باقی ماندہ مسلم سلطنت بھی ختم ہو جائے گی ۔ اور پورے ملک پر مسیحیوں کا قبضہ ہو جائے گا۔ حالات کی نزاکت کے پیش نظر المعتمد نے فیصلہ کیا کہ وہ مراکش کے طاقت ور سلطان یوسف بن تاشفین سے مدد طلب کرے۔ دوبارہ یہ ایک بے حد نازک معاملہ تھا۔ کیونکہ ایسا کرنے کی صورت میں یہ واضح اندیشہ تھا کہ الفاظ کی جگہ یوسف بن تاشفین اس کے ملک پر قابض ہو جائے گا۔ اس کے کچھ مشیروں نے سنجیدگی کے ساتھ اس اندیشہ کا اظہار کیا۔ المعتمد نے اس وقت اپنے مشیروں کو جو تاریخی جواب دیا وہ یہ تھا : رعی الجمال ولا رعى الخنازير۔ اونٹ کی چرواہی منظور ہے مگر خنزیر کی (لئن اكون اسيرا لدى ملك چرواہی منظور نہیں۔ اگر میں ایک عربی مسلم عربی مسلم أرعى له الجمال بادشاہ کا قیدی بن جاؤں اور اس کے خير من ان اكون اسيرا لدى اونٹوں کو چراؤں تو یہ اس سے بہتر ہے کہ ملك الافرنج أرعى لــہ میں فرنگی بادشاہ کا قیدی بنوں اور اس کے الخنازير) خنزیریوں کو چراؤں۔ اس کے بعد المعتمد نے سلطان یوسف بن تاشفین کو مدد کے لیے پیغام بھیجا۔ وہ افریقہ سے ایک بڑا لشکر لے کر روانہ ہوا۔ آبنائے جبرالٹر کو پار کر کے وہ اسپین میں داخل ہوا۔ اس وقت مسلم لشکر کی مجموعی تعداد ۲۰ ہزار تھی۔ اور مسیحی فوج کی تعداد ۵۰ ہزار سے زیادہ تھی۔ زلاقہ کے میدان میں دونوں کے درمیان سخت مقابلہ ہوا۔ یہ رمضان کے مہینہ کا پہلا عشرہ تھا۔ مسیحی لشکر کو کثرت تعداد کے باوجود بری طرح شکست ہوئی۔ ابن اثیر نے لکھا ہے کہ شدید مقابلہ میں خود المعتمد کا چہرہ زخمی ہو گیا۔ اس دن اس نے غیر معمولی بہادری دکھائی۔ آخر میں فرنگی فوجوں میں سے صرف تین گھوڑے سوار اپنی جان بچ کر بھاگ سکے۔ مسلمانوں کو غیر معمولی مقدار میں مال غنیمت حاصل ہوا (۱۰/۱۵۳) اس واقعہ کا ذکرہ انسائیکلو پیڈیا برطانیکا میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے —— ۱۰۸۶ء میں یوسف نے جبرالٹر کی آبنائے کو پار کیا اور زلاقہ کے مقام پر مسیحی فوجوں کو بری طرح شکست دی :

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader