آسمانی انتظام
Urdu book, p. 30
By Maulana Wahiduddin Khan
آسمانی انتظام ابتدائی دور کی جنگوں میں صرف انسانی آنکھ دیکھنے کا کام کرتی تھی۔ اس کے بعد دوربین سے کام لیا جانے لگا۔ اب ٹیکنالوجی کی ترقی نے اس کو ممکن بنا دیا ہے کہ آسمان میں گھومتی ہوئی مشینیوں (سٹیلائٹ) کے ذریعہ دشمن کے ٹھکانوں کو معلوم کیا جائے اور نہایت صحت کے ساتھ ان کو دور سے نشانہ بنایا جا سکے۔ خلیج کی جنگ اسی قسم کی ایک جنگ تھی ۔ اس میں ایسی پیچیدہ ٹیکنالوجی استعمال کی گئی جو اس سے پہلے کبھی کسی جنگ میں استعمال نہیں کی گئی تھی۔ اس اعتبار سے اس جنگ میں بہت سے نہایت اہم سبق ملتے ہیں ۔ ٹائمز آف انڈیا (۳۱ جنوری ۱۹۹۱) میں خلیج کی جنگ سے متعلق اسی قسم کی ایک نصیحت آموز رپورٹ چھپی ہے۔ اس کا عنوان اخبار نے ان لفظوں میں قائم کیا ہے کہ اتحادی فوجوں کی آنکھ آسمان میں : Eyes of the Allies in the sky اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوری ۱۹۹۱ میں عراق نے کئی درجن اسکنڈ میزائل (Scuds) اسرائیل اور سعودی عرب پر پھینکے۔ مگر ان کی زیادہ تعداد درمیان ہی میں بیکار کر دی گئی ۔ وہ نشانہ پر نہ پہنچ سکی۔ اس سے پہلے جو جنگیں ہوتی تھیں ان میں توپ کے گولے یا بم جب دشمن کی طرف پھینکے جاتے تھے تو ان کو راستہ کے درمیان ناکارہ کرنے کا کوئی تصور نہیں تھا۔ پھر موجودہ جنگ میں کیوں کر ایسا ہوا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader