قرآنی افکار
Urdu book, p. 56
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآنی افکار دنیا میں جو چیزیں پائی جاتی ہیں وہ عام طور پر دو قسم کی ہیں۔ ایک قسم کی چیزیں وہ ہیں جن کی ایک مثال گھر ہے۔ دوسری قسم کی چیزیں وہ ہیں جن کی ایک مثال درخت ہے۔ گھر کیا ہے ۔ گھر متفرق اجزاء کا ایک مجموعہ ہے ۔ اینٹ ، سمنٹ، لوہا، لکڑی ، اس قسم کی مختلف چیزوں کو مخصوص ترتیب سے اکٹھا کیا جاتا ہے تو ایک گھر بن کر تیار ہو جاتا ہے۔ گھر کا ہر جزو دوسرے جزو سے الگ ہے ۔ ان الگ الگ اجزاء میں جو چیز وحدت پیدا کرتی ہے وہ صرف ان کی ترتیب ہے ۔ درخت کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ درخت ایک وحدت کے متفرق ظہور کا نام ہے۔ درخت کی اصل ایک زندہ حقیقت ہے جس کو بیج کہا جاتا ہے۔ یہ زندہ حقیقت جب اپنی تو بیعی صورت میں ظاہر ہو کر تنہ ، شاخ ، پتی ، پھول ، پھل کی صورت میں کھڑی ہو جائے تو اس کو درخت کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں کہا گیا ہے : کیا تم نے نہیں دیکھا کہ کس طرح مثال بیان فرمائی اللہ نے کلمہ طیبہ کی۔ وہ ایک پاکیزہ درخت کی مانند ہے جس کی جڑ زمین میں جمی ہوئی ہے ، اور جس کی شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں۔ وہ ہر موقع پر اپنا پھل دیتا ہے اپنے رب کے حکم سے ۔ اور اللہ لوگوں کے لیے مثال بیان کرتا ہے تا کہ وہ نصیحت حاصل کریں (ابراہیم ۲۴-۲۵) قرآن کی ان آیتوں میں ایک مثال کے ذریعہ ایمان و اسلام کی حقیقت بتائی گئی ہے۔ اس کے مطابق ، اللہ پر ایمان ایک تو سیع پذیر حقیقت ہے جس طرح بیج ایک تو سیع پذیر حقیقت ہوتا ہے ۔ درخت جب اپنی مطلوبہ زمین میں متمکن ہو جائے تو وہ بڑھنا شروع ہوتا ہے ۔ وہ اپنے اطراف کی پوری دنیا سے اپنی خوراک لیتے ہوئے بڑھتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ مکمل درخت بن جاتا ہے۔ اسی طرح ایمان جب ایک انسان کے سینہ میں جگہ پاتا ہے تو اس کے بعد وہ فورا بڑھنے لگتا ہے ۔ خدا کی پوری کائنات اس کے لیے ”رزقِ خیر“ کا دستر خوان بن جاتی ہے۔ حیات انسانی کے تمام پہلوؤں میں اس کا ظہور ہوتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ سر سبز و شاداب ربانی درخت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader