Urdu book · عظمتِ اسلام

تدوین و حفاظت

Urdu book, p. 58

By Maulana Wahiduddin Khan

تدوین و حفاظت قرآن کے لغوی معنی ہیں ــــ وہ چیز جو پڑھی جائے۔ قرآن یا القرآن اب اس مقدس کتاب کا نام ہے جو خدا کی آخری اور محفوظ کتاب ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اس کتاب کا پہلا حصہ ۶۱۰ء میں مکہ میں فرشتہ جبرئیل کی معرفت اتارا گیا۔ اور اس کا آخری حصہ ۶۳۲ء میں مدینہ میں نازل ہوا۔ ہجری کیلنڈر کے اعتبار سے ۲۳ سال میں اس کے نزول کی تکمیل ہوئی۔ تمام الہامی کتابوں میں قرآن کی یہ استثنائی صفت ہے کہ اس کا متن تاریخی اعتبار سے ایک مکمل طور پر محفوظ متن ہے۔ مثال کے طور پر تو رات اور انجیل اسرائیلی پیغمبروں کے ظہور کے کئی نسلوں کے بعد محض یاد داشت سے لکھی گئیں اور پھر سیکڑوں سال تک ان کے علما، ان کتابوں کی غلطیوں کی بطور خود تصحیح کرتے رہے۔ مگر قرآن کی یہ امتیازی خصوصیت ہے کہ وہ مکمل طور پر خود پیغمبر اسلام کے زمانے میں لکھا گیا۔ پورے علمی استناد کے ساتھ یہ کہا جاسکتا ہے کہ پیغمبر نے جو الفاظ لکھوائے عین وہی الفاظ آج بھی قرآن کی صورت میں لکھے ہوئے ہمارے پاس موجود ہیں۔ قرآن کے متن کی حفاظت کا یہ انتظام کیا گیا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہر وقت کچھ ایسے اصحاب رہتے تھے جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ جیسے ہی قرآن کا کوئی حصہ اترتا آپ فوراً اُن کاتبو ں میں سے کسی کا تب کو بلاتے اور بطریق املا، نازل شدہ آیتوں کو لکھوا دیتے۔ اسی کے ساتھ آپ کے تمام اصحاب قرآن کو زبانی یاد کر لیا کرتے تھے۔ اس طرح قرآن کی حفاظت کے لیے وہ دہر انتظام کیا گیا جس کو ایک مستشرق نے دہر اپچکنگ (double-checking) کا نظام کہا ہے۔ اس دہر انتظام کا مقصد یہ تھا کہ لکھے ہوئے کو یاد داشت سے جانچا جائے، اور یاد داشت کو لکھے ہوئے سے جانچا جائے تاکہ کلام کی صحت میں کوئی شبہ باقی نہ رہے۔ قرآن کی حفاظت کا یہ دہر انتظام پورے اہتمام کے ساتھ برابر قائم رہا۔ ایک دن کے لیے بھی اس میں فرق واقع نہیں ہوا۔ ساری مسلم دنیا میں نسل در نسل لاکھوں لوگ ہر صبح و شام اس دہر انتظام حفاظت کو قائم رکھنے میں مشغول رہے۔ یہ عمل ہزار سال سے بھی زیادہ مدت تک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page