سچائی کو پانے والا
Urdu book, p. 62
By Maulana Wahiduddin Khan
سچائی کو پانے والا معانی کی دنیا خدا کے جلووں کی دنیا ہے۔ کون ہے جو خدا کے جلووں کو انسانی زبان میں بیان کر سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ جہاں الفاظ ختم ہو جاتے ہیں وہاں سے معانی کا آغاز ہوتا ہے۔ ہم جب کسی معنی کو بیان کرتے ہیں تو ہم اس کو بیان نہیں کرتے بلکہ اس کو کچھ گھٹا دیتے ہیں۔ اس کے اوپر ایک لفظی پردہ ڈال دیتے ہیں۔ کسی باطنی حقیقت کو کوئی شخص محض اس کے الفاظ سے سمجھ نہیں سکتا۔ ایک اندھا شخص کسی کے بتانے سے یہ نہیں جان سکتا کہ پھول کیسا ہے۔ اسی طرح ایک شخص جس نے معنوی حقائق کو دیکھنے کی صلاحیت اپنے اندر نہ جگائی ہو وہ معنوی حقائق سے باخبر نہیں ہو سکتا۔ خواہ ڈکشنری کے تمام الفاظ اس کے سامنے دہرادئیے جائیں، خواہ قاموس المعانی کی تمام جلدوں کو اسے پڑھا دیا جائے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ یہ ایک ایسی کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں۔ مگر اس کتاب سے ہدایت اسی کو ملتی ہے جو اپنے اندر تقوی کی صفت رکھتا ہو اس کا مطلب یہ ہے کہ سچائی اس کو ملتی ہے جس کے دل میں سچائی کی کھٹک موجود ہو۔ جو شخص سچائی کی تلاش میں ہو، سچائی جس کی ضرورت بن گئی ہو، جو سچائی کو پانے کے لئے اتنا بے قرار ہو کہ وہ اسی کی یاد لے کر سوتا ہو اور اسی کی یاد لیکر جاگتا ہو، جو آدمی اس طرح سچائی کا طالب ہو، قرآن اسی کے لئے ہدایت بنتا ہے ۔ ایسا شخص گویا ہدایت کا نصف راستہ طے کر چکا ہے۔ وہ اپنے اندر چھپے ہوئے عہد الست کی خدائی آوازوں کو سن رہا ہے۔ وہ اپنے اندر اس صلاحیت کو بیدار کر چکا ہے جو معانی کی زبان کو سمجھتی ہے۔ ایسا شخص مادی دنیا سے بے رغبتی کی وجہ سے عالم حقائق سے اتنا قریب آ جاتا ہے کہ وہ فرشتوں کی سرگوشیوں کو سننے لگتا ہے۔ نبوت کا علم ملنے سے پہلے یہ تمام تجربات آدمی کے اندر مبہم اور مجہول انداز میں ہوتے ہیں۔ اس کے بعد جب قرآن کی آواز اس کے اندر داخل ہوتی ہے تو وہ اس کی کتاب فطرت کی تفسیر بن جاتی ہے وہ اپنے اندر چھپے ہوئے غیر ملفوظ اشارات کو ملفوظ زبان میں پالینا ہے۔ اب قرآن اور قرآن کو پڑھنے والا دونوں ایک دوسرے کا مثنی بن جاتے ہیں۔ قرآن وہ بن جاتا ہے اور وہ قرآن ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader