قرآن ایک استثنائی کتاب
Urdu book, p. 65
By Maulana Wahiduddin Khan
استثنا کی قابل فہم توجیہہ صرف ایک ہو سکتی ہے، اور وہ یہ کہ اس کو خدائی معاملہ سمجھا جائے ۔ یہ خدا تھا جس نے تاریخ میں مداخلت کر کے اس استثناء کو ممکن بنایا۔ قدیم یونان میں جو کتابیں یونانی زبان میں لکھی گئیں، ان میں دو کتابیں بہت مشہور ہیں۔ ایک الیڈ (Illiad) اور دوسرے اوڈلیسی (Odyssey) الیڈ ایک مفروضہ جنگ کی کہانی بیان کرتی ہے اور اوڈلیسی ایک مفروضہ سفر کی داستان ہے۔ لٹریری اہمیت کی بنا پر ان کتابوں کے ان گنت ترجمے کیے گیے ہیں۔ مگر دونوں کتابوں کے بارے میں عجیب بات یہ ہے کہ ان کے مصنف کا نام قطعیت کے ساتھ معلوم نہیں۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ان کتابوں کا مصنف ہومر ہے جس کا زمانہ غالباً نویں صدی یا آٹھویں صدی قبل مسیح تھا۔ تاہم ہومر کے بارہ میں تاریخی معلومات تقریباً نہیں کے برابر ہیں : Virtually nothing is known about the life of Homer (Vol. V, p. 103). محققین نے اس مفروضہ پر بھی زبردست اعتراضات کیے ہیں کہ یہ کتا بیں فی الواقع ہومر کی تصنیف ہیں۔ مثلاً سیموئل ٹبلر (۱۹۰۲ ۔ ۱۸۳۵) کا خیال ہے کہ اوڈلیسی ایک عورت کی لکھی ہوئی ہے۔ اسی طرح الیڈ کے بارہ میں کہا گیا ہے کہ وہ کئی مرحلوں میں مختلف افراد کی کوششوں سے مرتب ہوئی (1017/8-EB) قدیم زمانہ کی کتابوں کا عام طور پر یہی حال ہے۔ ان کے بارے میں معلومات اتنی کم ہیں کہ ان کے ذریعہ ان کی کوئی واضح تاریخی تصویر نہیں بنتی۔ دور قدیم کی کتابوں میں قرآن واحد کتاب ہے جس کی ہر بات معلوم اور مسلم ہے۔ جس کی واقعیت تاریخ کے ہر معیار پر پوری اترتی ہے۔ جو مکمل طور پر ایک تاریخی کتاب ہے ــــ قرآن کب اترنا شروع ہوا، ۶۱۰ ء میں ۔ کس کے اوپر اترا، محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب کے اوپر۔ وہ کہاں پیدا ہوئے اور کہاں وفات پائی، ۵۷۱ ء میں مکہ میں پیدا ہوئے اور ۶۳۲ ء میں مدینہ میں وفات پائی۔ قرآن کی زبان کیا تھی، عربی زبان۔ شروع میں قرآن کے کاتب کون لوگ تھے، ابو بکر بن ابی قحافہ، عمر بن الخطاب ، عثمان بن عفان ، علی بن ابی طالب ، زبیر بن العوام ، زید بن ثابت ، عامر بن فہیرہ، ابو ایوب انصاری ، ابی بن کعب ، معاویہ بن ابی سفیان ، عبد اللہ بن مسعود ، وغیرہ۔ اسی طرح قرآن اور صاحب قرآن کے بارہ میں جو بھی تاریخی سوال کیا جائے ، اس کا واضح جواب یقینی طور پر موجود ہو گا ۔ جب کہ دور قدیم کی کسی بھی دوسری کتاب کو یہ خصوصیت حاصل نہیں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader