Urdu book · عظمتِ اسلام

قرآن اور عربی زبان

Urdu book, p. 89

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن اور عربی زبان رومن امپائر کے زمانہ میں امپائر کی عام زبان لاطینی تھی ۔ تا ہم مختلف علاقوں میں لہجوں کا فرق تھا ۔ زبان ایک تھی مگر لہجہ کے اعتبار سے وہ الگ الگ انداز میں بولی جاتی تھی ۔ جوں کہ لہجہ کے اس فرق کو کسی ایک وحدت میں باندھے رکھنے کا ان کے پاس کوئی طاقتور ادبی معیار موجود نہ تھا، یہ فرق بڑھتا رہا ، یہاں تک کہ لہجوں کا فرق بالآخر زبانوں کا فرق بن گیا اور وہ مختلف زبانیں وجود میں آئیں جن کو اب رومی زبانیں (Romance languages) کہا جاتا ہے ۔ یہی مختلف زبانیں ہیں جن کو موجودہ زمانہ میں فرانسیسی ، اسپینی ، اطالوی ، پرتگالی ، رومانی زبانیں کہا جاتا ہے ۔ اسی کے ساتھ یورپ کی بہت سی چھوٹی چھوٹی زبانیں مثلاً سارڈی نین وغیرہ (Occitan, Catalan, Sardinian, Rhaetian, Creoles) بھی اسی قدیم اصل کی بدلی ہوئی صورتیں ہیں ۔ اس طرح ایک زبان کچھ صدیوں کے بعد ایک درجن زبان بن گئی ۔ ایک زبان سے کئی زبان بننے کا یہی واقعہ عربی زبان کے ساتھ بھی پیش آ سکتا تھا ۔ قدیم زمانہ میں مختلف عرب قبائل کے لہجوں میں زبردست فرق پایا جاتا تھا ۔ آج بھی لہجوں کا یہ فرق مختلف عرب علاقوں میں بدستور موجود ہے ۔ ایک لہجہ کا آدمی دوسرے لہجہ کے آدمی کی بات کو بمشکل سمجھ سکتا ہے ۔ اس واضح فرق کے باوجود تمام عرب علاقوں کی تحریری زبان ایک رہی ۔ وہ کئی زبان نہ بن سکی ۔ عربی زبان کی وحدت براہِ راست قرآن کا کرشمہ ہے ۔ یہ تمام تر قرآن کا تاشیدی کارنامہ ہے کہ اس نے عربی زبان کو ایک تحریری صورت پر باقی رکھا ، اس نے عربی کو باعتبار تحریر ، کئی زبان بننے نہیں دیا ۔ بولنے کے وقت آدمی اپنے قبیلے کے لہجہ کی پیروی کرتا تھا ، مگر لکھنے کے وقت وہ قرآن کی پیروی کرنے پر مجبور تھا ۔ اس طرح قرآن کا طاقت ور ادبی معیار ان کے انتہائی فرق پر اس طرح چھایا رہا کہ اس نے ان کو الگ الگ ہونے سے روک دیا ۔ قرآن سے پہلے عرب میں زیادہ تر صرف شاعری کا رواج تھا ۔ لوگ اشعار کی صورت میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے تھے ۔ اہل عرب کے نزدیک ، قرآن سب سے پہلا کلام ہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page