بادشاہ جھک گیا
Urdu book, p. 88
By Maulana Wahiduddin Khan
بادشاہ جھک گیا ابن الاثیر نے اپنی کتاب الکامل فی التاریخ میں ۳۶۶ھ کے حالات کے تحت لکھا ہے کہ اس سال ذوالقعدہ کے مہینہ میں قاضی منذر بن سعید البلوطی کی وفات ہوئی۔ وہ اندلس کے قاضیوں کے قاضی (چیف جسٹس) تھے۔ وہ فقیہہ، خطیب، شاعر، فصیح اور نہایت دین دار تھے۔ ایک دن وہ اندلس کے سلطان عبدالرحمن الناصر کے یہاں آئے۔ اس وقت سلطان زہرا محل کی تعمیر سے فارغ ہوا تھا۔ اس وقت وہ ایک گنبد کے اندر بیٹھا تھا جس کو سونے سے سجایا گیا تھا۔ اس کی تعمیر ایسی نادر رکھتی کہ سابق میں اس کی کوئی مثال موجود نہ تھی۔ سلطان کے پاس بڑے بڑے لوگ جمع تھے۔ عبدالرحمن الناصر نے کہا۔ کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ کبھی کسی نے اس طرح کی عمارت بنائی ہے۔ تمام لوگوں نے کہا کہ ہم نے نہ کبھی ایسا دیکھا اور نہ ایسا سنا۔ انھوں نے تعریف کی اور تعریف میں مبالغہ کیا۔ قاضی منذر سر جھکائے ہوئے تھے۔ عبدالرحمن ان کی طرف مخاطب ہوا اور ان سے پوچھا کہ آپ اپنی رائے بتائیں۔ قاضی منذر رونے لگے۔ ان کے آنسو ان کی داڑھی تک پہنچ گئے۔ انھوں نے کہا کہ خدا کی قسم، مجھے یہ گمان نہیں تھا کہ شیطان ، خدا اس کو رسوا کرے، تم کو اس حد تک پہنچادے گا۔ اور تمہارے اوپر اتنا زیادہ قابو پائے گا حالانکہ اللہ نے تم کو بہت کچھ دیا ہے اور تمہارے اوپر فضل کیا ہے۔ اس کے باوجود شیطان تم کو کافروں کے درجہ میں پہنچا دے گا۔ عبدالرحمن الناصر نے کہا کہ دیکھیئے کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔ کیسے شیطان نے مجھ کو کافروں کے درجہ میں پہنچا دیا۔ قاضی منذر نے اس کے جواب میں قرآن کی یہ آیتیں پڑھیں : ولولا ان يكون الناس امة | اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ سب لوگ ایک ہی واحدة لجعلنا لمن يكفر بالرحمن | طریقہ کے ہو جائیں گے تو جو لوگ زمین کا انکار لبيوتهم سقفا من فضة ومعارج | کرتے ہیں ان کے لیے ہم ان کے گھروں کی عليها يظهرون - ولبيوتهم ابوابا | چھتیں چاندی کی بنا دیتے اور زینہ بھی جن

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader