قرآن کا کرشمہ
Urdu book, p. 40
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کا کرشمہ اسلام سے پہلے عرب میں تعلیم بہت کم تھی۔ بسٹھھ میں جو انا ( بحرین ، الحسار ) جیسے بڑے مقام پر نبی صلَّے اللہ علیہ وسلم نے ایک تبلیغی خط بھیجا۔ راوی کہتے ہیں کہ سارے علاقے اور قبیلہ میں ایک شخص بھی نہ تھا جو خط کو پڑھ سکے ۔ لوگ تلاش کرتے رہے یہاں تک کہ ایک نوجوان ملا جس نے خط کو پڑھ کر سنایا۔ تقریباً اسی زمانہ کا واقعہ ہے ، البمر بن تو لب مسلمان ہوئے ۔ وہ ایک بڑے قبیلہ کے سردار تھے اور اتنے بڑے شاعر تھے کہ ان کے اشعار کا ایک دیوان تیار ہوا ہے۔ نبی صلَّے اللہ علیہ وسلم نے انھیں ان کے قبیلہ کل (مین) کا سردار مقرر کر کے ایک تحریری پر دانہ عطا کیا۔ مگر وہ اس کو پڑھ نہیں سکتے تھے ۔ بازار میں آکر پوچھنے لگے کیا آپ لوگوں میں کسی کو پڑھنا آتا ہے جو یہ خط پڑھ مجھ کو سنا دے ؟ کہا جاتا ہے کہ بعثت نبوی کے وقت شہر مکہ میں مشکل سے چند درجن آدمی ایسے مل سکتے تھے جو لکھنا پڑھنا جانتے ہوں۔ مدینہ میں اس سے بھی کم عرب یہ فن جانتے تھے ۔ لیکن دوسری صدی ہجری ہی میں عربی زبان علمی نقطۂ نظر سے دنیا کی مقبول ترین زبان بن گئی ۔ عربوں میں لسانی ترقی کا زمانہ اتنا مختصر ہے کہ دنیا کی پرانی تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی ۔ عربوں کی تیز رفتار علمی اور لسانی ترقی کا یہ واقعہ کیوں کر پیش آیا ۔ یہ حیرت انگیز واقعہ براہ راست قرآن کا کرشمہ تھا۔ قرآن ایک کتابِ دعوت ہے۔ جو شخص قرآن سے متاثر ہوتا ہے اور اس پر ایمان لا کر اسے پڑھتا ہے ، اس کو فوراً محسوس ہوتا ہے کہ قرآن نے اس کو دامی بنا دیا ہے ۔ اس کا دل و دماغ دامی کا دل و دماغ بن جاتا ہے ۔ اس کے اندر یہ سیلاب امنڈ پڑتا ہے کہ اس نے جس ابدی صداقت کو خدا کی کتاب کے ذریعہ پایا ہے ، اس کو وہ تمام انسانوں تک پہنچا دے ۔ یہ دعوتی جذبہ اس کو مجبور کرتا ہے کہ زبانوں کو سیکھے ۔ وہ ہر طرح کی واقفیت حاصل کرے ۔ وہ اپنے آپ کو علمی اعتبار سے مسلح کرے ۔ پہلے اگر وہ بے زبان تھا تو اب وہ با زبان بن جاتا ہے ۔ پہلے اگر وہ بے علم تھا تو اب وہ با علم ہو جاتا ہے ۔ دعوت اپنی عین فطرت کے اعتبار سے آدمی کو صاحب علم اور صاحب شعور بنا دیتی ہے ۔ دعوت کے ساتھ بے علمی اور بے شعوری کا جمع ہونا ممکن نہیں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader