Urdu book · عظمتِ مومن

امکان ختم نہیں ہوتا

Urdu book, p. 16

By Maulana Wahiduddin Khan

امکان ختم نہیں ہوتا عبد الرحمٰن بن معاویہ ابن ہشام (۱۷۲-۱۱۳ھ) بنو امیہ کا ایک شہزادہ تھا۔ وہ نہایت ذہین اور باصلاحیت تھا۔ چنانچہ اس کی تربیت ابتدا ہی سے نہایت شاہانہ انداز میں کی گئی۔ اس کو اس طرح تیار کیا گیا کہ جب وہ بڑا ہو تو کامیابی کے ساتھ تخت خلافت پر بیٹھ سکے ۔ مگر ۱۳۲ھ میں بنو امیہ کی خلافت ختم ہو کر بنو عباس کی خلافت شروع ہو گئی۔ اس وقت عبد الرحمٰن کی عمر تقریباً ۲۱ سال تھی۔ جب عباسی لشکر شام میں داخل ہو کر دمشق پر قابض ہو گیا اور بنو امیہ کا قتل عام ہونے لگا اس وقت اتفاق سے عبد الرحمٰن دمشق میں موجود نہ تھا۔ بلکہ باہر دریائے فرات کے کنارے ایک گاؤں میں گیا ہوا تھا۔ یہاں دریا کے کنارے اس کی جاگیر تھی اور اس کے باغات وغیرہ تھے۔ اس وقت وہ یہیں پر مقیم تھا۔ عبد الرحمٰن کو جب معلوم ہوا کہ بنو امیہ کے افراد کا قتل عام ہو رہا ہے تو وہ یہاں درختوں کے جھنڈ میں خیمہ لگا کر چھپ گیا۔ ایک روز وہ اپنے خیمہ میں تھا کہ اس کا چاڑسال کا لڑکا خوف زدہ حالت میں خیمہ میں آیا۔ معلوم ہوا کہ بنو عباس کے سپاہی اس کو تلاش کرتے ہوئے اس باغ تک پہنچ گئے ہیں۔ عبد الرحمٰن نے اپنے بچہ کو گود میں اٹھایا اور دریا کی طرف بھاگا۔ وہ دریا میں کود پڑا اور تیرتا ہوا اس کے دوسرے کنارے پر پہنچ گیا ۔ عبد الرحمٰن بن معاویہ دمشق سے بھاگنے میں کامیاب ہو گیا۔ تاہم کئی سال تک اس کی زندگی نہایت مصیبت کی زندگی رہی ۔ دشمن سے بچنے کے لیے دریا میں کودنا ، جنگلوں میں پناہ لینا ، بھوکے پیاسے ایک علاقے سے دوسرے علاقے کی طرف بھاگنا ، یہ اس کی زندگی تھی۔ اسی حال میں وہ سبط پہنچا۔ جو افریقہ کے ساحل پر واقع تھا ۔ بظاہر عبد الرحمٰن کا مستقبل تاریک ہو چکا تھا۔ اس کی زندگی بنتے بنتے بگڑ گئی تھی ۔ بچپن کی عمر میں جس کا یہ حال تھا کہ تخت خلافت اس کا انتظار کر رہا تھا، جوانی کی عمر کو پہنچ کر اس کے لیے زمین میں ایک گوشہ بھی نہیں رہا جہاں وہ سکون کی زندگی گزار سکے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page