پکار کے وقت
Urdu book, p. 23
By Maulana Wahiduddin Khan
مظلوم کی پکار پر دوڑنا زندہ انسان کی خاص علامت ہے۔ ایک شخص جس کے اندر انسانی جوہر موجود ہو۔ جو اپنے مردانہ اوصاف پر قائم ہو، وہ ایسی کسی پکار کو نظر انداز کرنے کا تحمل نہیں کر سکتا۔ یہی وہ انسانی صفت ہے جس کے بارے میں عرب شاعر نے کہا ہے کہ ان کا بھائی جب اپنی کسی مصیبت پر انھیں پکارے تو اس وقت وہ تفصیل نہیں پوچھتے، وہ فوراً اس کی مدد پر دوڑ پڑتے ہیں : لا يسئلون اخاهم حين يندبهم فى النائبات على ما قال برهانا مظلوم کی مدد کرنا یا مظلوم کی پکار پر دوڑنا ایک فطری صفت ہے۔ جن لوگوں کی فطرت زندہ ہو، ان کے اندر یہ انسانی خصوصیت بھی ضرور زندہ ہوگی۔ یہ ناممکن ہے کہ کوئی شخص اپنی فطرت کے اعتبار سے زندہ ہو اور اس کے اندر یہ صفت نہ پائی جائے۔ قومی تعصب یا ذاتی تعلق کے تحت ہر آدمی اپنے لوگوں کی مدد کے لیے دوڑتا ہے۔ مگر اس قسم کے دوڑنے کو کوئی اعلیٰ اخلاقی صفت نہیں کہا جا سکتا۔ اعلیٰ اخلاقی صفت کا درجہ صرف اس دوڑنے کو حاصل ہے جو ذاتی تعلق یا قومی تعصب جیسی چیزوں سے بلند ہو۔ جب کہ آدمی اس لیے دوڑ پڑے کہ پکارنے والا مظلوم ہے، نہ اس لیے کہ ذاتی مفاد یا جماعتی حمیت کا تقاضا ہے کہ اس کی پکار پر دوڑا جائے۔ مومن ایک با اصول انسان ہوتا ہے۔ دوسرے لوگ مفاد کے لیے تڑپتے ہیں، مومن اصول کے تڑپتا ہے۔ دوسرے لوگ اپنی ذات کے لیے عمل کرتے ہیں، مومن اپنے سوا دوسروں کے لیے عمل کرتا ہے۔ عام آدمی اس وقت حرکت میں آتا ہے جب کہ اس کی اپنی ذات کے لیے کوئی مسئلہ پیدا ہو۔ جب کہ مومن کو صرف یہ بات متحرک کر دینے کے لیے کافی ہے کہ انسانی اصولوں میں سے کوئی اصول ٹوٹ گیا ہے۔ المعتصم کے جس واقعہ کا ذکرہ اوپر کیا گیا ہے، اس کا حوالہ انسائیکلوپیڈیا برطانیہ کا (IX/939, 3/559) میں مختصر طور پر موجود ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ تھیو فلس کو ایک خونی جنگ میں جولائی ۸۳۸ میں شکست ہوئی : Theophilus was defeated in a bloody battle at Dazmana in July 838.

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader