اسلامی شجاعت
Urdu book, p. 25
By Maulana Wahiduddin Khan
جنگ کے بعد رینالڈ اور دوسرے لوگ قیدی کی صورت میں صلاح الدین ایوبی کے سامنے لائے گئے۔ صلاح الدین نے رینالڈ کی غداری کے واقعات اس کو یاد دلائے۔ نیز اس واقعۂ کو یاد دلایا جب کہ اس نے حاجیوں کے ایک قافلہ کو لوٹا تھا۔ اور ان کی فریاد پر ان سے کہا تھا کہ اپنے محمد کو بلاؤ، وہ تم کو بچائیں گے۔ اس کے بعد صلاح الدین نے تلوار اپنے میان سے نکالی اور رینالڈ کی گردن مار دی ۔ اس کو قتل کرتے ہوئے صلاح الدین نے کہا کہ لو میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے تمہارا انتقام لیتا ہوں (ھانا اذا انتصر لمحمد صلی اللہ علیہ وسلم ) یروشلم کے بادشاہ گائی نے جب رینالڈ کا یہ انجام دیکھا تو وہ کانپ اٹھا۔ وہ ڈرا کہ اب میرا بھی یہی انجام ہوگا۔ اس کو یقین ہوگیا کہ تلوار کا دوسرا وار اس کے اوپر پڑنے والا ہے۔ مگر سلطان صلاح الدین نے اس کو یہ کہہ کر مطمئن کر دیا : ليس من عادة الملوك ان يقتلوا الملوك یہ بادشاہوں کی عادت نہیں کہ وہ بادشاہوں ولما هذا فانه نقض العهد مرة بعد مرة کو قتل کریں۔ باقی اس شخص (رینالڈ) نے تو فجری ما نجرى (النوادر السلطانیه، ۶۴) عہد کو بار بار توڑا تھا۔ پس ہوا جو کچھ ہوا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے اس شخص کو قتل کر دیا جس نے بار بار کے غدر اور معاہدہ کی خلاف ورزی سے یہ ثابت کیا تھا کہ وہ ناقابل معافی حد تک ایک برا آدمی ہے۔ مگر صلاح الدین نے اس شخص کو چھوڑ دیا جو اگر چہ دشمن تھا۔ مگر اس نے خہت اور کمینگی اور نقض عہد کا کوئی مظاہرہ نہیں کیا تھا۔ اسی کا نام اسلامی شجاعت ہے۔ سچا اسلامی بہادر وہ ہے جو لڑنے کے ساتھ صلح بھی کرنا جانتا ہو۔ جو انتقام لینے کے ساتھ معاف کرنے کا حوصلہ بھی رکھتا ہو۔ جو یہ جانتا ہو کہ کب تلوار اٹھائی جاتی ہے اور کب یہ ضروری ہوتا ہے کہ تلوار کو میان میں ڈال لیا جائے۔ مومن کی صفات میں سے ایک صفت یہ ہے کہ وہ ہمیشہ حد کے اندر رہتا ہے۔ کسی سے خوش ہو تب بھی وہ ایک حد کے اندر رہ کر خوشی کا اظہار کرے گا۔ وہ اگر کسی سے غصہ ہو جائے تب بھی اس کا غصہ اس کو حد سے باہر کرنے والا ثابت نہیں ہوگا۔ مومن کی یہ صفت اس کو قابل پیشین گوئی کردار کا حامل بنا دیتی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader