ماضی اور حال
Urdu book, p. 28
By Maulana Wahiduddin Khan
ماضی اور حال ہارون الرشید (۸۰۹-۷۶۶) عباسی دور کا مشہور خلیفہ ہے۔ اس کی حکومت مشرق میں چین سے لے کر مغرب میں اٹلانٹک تک پھیلی ہوئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ ہارون الرشید نے بادل کے ایک ٹکڑے کو ہوا میں اڑتے ہوئے دیکھا تو اس کی زبان سے نکلا : امطری حیث شئت فسیأتینی خراجك (جہاں چاہے جا کر برس، تیرا خراج میرے ہی پاس آئے گا) خلیفہ ہارون الرشید کے زمانہ میں بغداد دنیا کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ شہر تھا۔ اس نے فرانس کے بادشاہ شارلیمان (۸۱۴ - ۷۶۸) کے لیے ایک گھڑی بطور تحفہ بھیجی تھی۔ یہ گھڑی پانی سے چلتی تھی اور وقت بتانے کے لیے آواز کرتی تھی۔ اس کو دیکھ کر شارلیمان کے درباری حیران رہ گئے۔ وہ اس کی تشریح نہ کر سکے۔ انھوں نے گمان کیا کہ اس گھڑی کے اندر ایک شیطان ہے جو اس کو حرکت دیتا ہے (اهدی لشار لبان ساعة مائية دقاقة - احتار رجال شار لمان في تفسيرها وظنوا أن فيها شيطاناً يحركها) خلیفہ ہارون الرشید کے زمانہ کا ایک واقعہ عرب تاریخوں میں نقل کیا گیا ہے، اس زمانہ میں نقفور اول (NICEPHORUS I) روم کی باقی ماندہ سلطنت کا جانشین تھا۔ اس نے ارادہ کیا کہ اس کی حکومت عباسی خلافت کو جو خراج دے رہی تھی، اس کو روک دے۔ اس نے ہارون الرشید کو ایک خط لکھا۔ اس کا مضمون یہ تھا : من نقفور ملك الروم إلى هارون ملك العرب شاه روم نقفور کی طرف سے شاہ عرب ہارون کے نام اما بعد فإن الملكة التي كانت قبلی اقامتك اس کے بعد یہ ہے کہ مجھ سے پہلے جو ملکہ تھی اس نے تم کو مقام الروز واقامت نفسها مقام البيذق۔ رخ (خیالی قسم کا بڑا جانور) کی حیثیت دے دی اور فحملت اليك اموالها اجمالا۔ وذلك اپنے آپ کو بیذق (شطرنج کا پیادہ سمجھ لیا۔ چنانچہ لضعف النساء وحمقهن ۔ فاذا قرأت اپنا مال لاد کر تمہارے پاس بھیج دیا۔ یہ عورتوں کی كتابی فاردد ما حصل قبلك کمزوری اور ان کی بے وقوفی کی وجہ سے ہوا۔ پس من اموالها والا فالسیف جب تم میرے اس کو پڑھو تو اس کا جو مال تم کو اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader