Urdu book · عظمتِ مومن

عجیب لوگ

Urdu book, p. 4

By Maulana Wahiduddin Khan

عجیب لوگ ایران حضرت عمر فاروق کے زمانہ خلافت میں فتح ہوا ہے۔ اس وقت ایران کی مسلم افواج کے سپه سالار حضرت سعد بن ابی وقاص تھے۔ اس جنگ میں ایرانیوں کا کافی نقصان ہوا۔ چنانچہ انہوں نے گفت و شنید کی پیش کش کی۔ حضرت سعد نے مختلف وفود کو رستم اور یزدگرد کے دربار میں بھیجا۔ مثلاً نعمان بن مقرن۔ فرات بن حیان۔ حنظلہ بن ربیع۔ عطارد بن حاجب۔ اشعث بن قیس ۔ مغیرہ بن شعبہ۔ عمرو بن معدیکرب کے وفود (البدایہ والنہایہ) تاریخ میں ان سفارتوں کی کافی تفصیلات آئی ہیں۔ آخری مرحلہ میں حضرت مغیرہ کا وفد شہنشاہ یزد گرد کے زرق برق دربار میں آیا۔ مدائن کے محل میں انھوں نے انتہائی بے خوفی کے ساتھ تقریر کی۔ یزدگرد اس کو سن کر بگڑ گیا۔ اس نے کہا کہ تم میرے سامنے اس طرح کی باتیں کرتے ہو ۔ اگر یہ قاعدہ نہ ہوتا کہ ایلچی قتل نہ کئے جاتیں تو میں تم کو ضرور قتل کر دیتا۔ اب تم واپس جاکر اپنے امیر کو بتا دو کہ میں سپہ سالار رستم کی سرکردگی میں ایسا لشکر بھیجنے والا ہوں جو تم سب کو قادسیہ کے خندق میں دفن کر دے گا۔ پھر یزدگرد نے محل کے آدمیوں سے کہا کہ ایک ٹوکری میں مٹی بھر کر لاؤ۔ مٹی لائی گئی تو اس نے مسلمانوں کے وفد سے مخاطب ہو کر پوچھا کہ تم میں سب سے زیادہ شریف کون ہے۔ وفد کے افراد چپ رہے۔ اس کے بعد عاصم بن عمرو بولے کہ میں سب سے زیادہ شریف ہوں۔ یزدگرد نے حکم دیا کہ مٹی کی ٹوکری عاصم بن عمرو کے گلے میں لٹکائی جائے اور ان کو یہاں سے بھگا دیا جائے یہاں تک کہ وہ مدائن کے باہر چلے جائیں۔ شاہی حکم کے مطابق مٹی کی ٹوکری عاصم بن عمرو کے گلے میں لٹکادی گئی۔ وہ اس کو لے کر مدائن کے محل سے نکلے اور اونٹنی پر سوار ہو کر تیزی سے قادسیہ کی طرف روانہ ہوتے جہاں حضرت سعد بن ابی وقاص مقیم تھے۔ وہاں پہنچ کر انھوں نے حضرت سعد کو ساری روداد سنائی اور مٹی کی ٹوکری ان کے سامنے رکھ دی۔ اس کے بعد مسلم سردار نے جو جواب دیا وہ یہ تھا : پر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page