Urdu book · عظمتِ مومن

رحم دل فاتح

Urdu book, p. 31

By Maulana Wahiduddin Khan

صلاح الدین نے مسلسل فتوحات حاصل کرتے ہوئے اکتوبر ۱۱۸۷ء میں قلعۃ القدس پر قبضہ کر لیا۔ صلیبیوں نے اپنے زمانہ اقتدار میں فلسطین کے مسلمانوں پر ہر قسم کے ظلم کیے تھے۔ مگر صلاح الدین نے فتح حاصل کرنے کے بعد ان کے خلاف کوئی بھی انتقامی کارروائی نہیں کی۔ ان کی تلوار صلیبی جارحیت کے خلاف میان سے نکلی تھی، صلیبی جارحیت کو ختم کرتے ہی وہ دوبارہ میان میں چلی گئی۔ فرانسیسی مستشرق نے لکھا ہے کہ صلاح الدین نے مسیحیوں کے ساتھ انتہائی شریفانہ معاملہ کیا۔ قدس میں داخل ہونے کے بعد انھوں نے حکم جاری کیا کہ ہسپتالوں میں جو مسیحی لوگ زیر علاج ہیں، ان کا علاج جاری رکھا جائے۔ تمام بڑے بڑے چرچ مسیحیوں کے قبضہ میں بدستور باقی رہے۔ انھوں نے ۱۵۰۰ مسیحیوں کے اوپر سے جزیہ معاف کر دیا، کیوں کہ انھوں نے کہا تھا کہ وہ مفلسی کی وجہ سے جزیہ نہیں دے سکتے۔ انھوں نے ایک بڑے صلیبی عہدیدار کو اجازت دی کہ وہ چرچ کے خزانہ کو اپنے ساتھ جہاں چاہے لے جائے۔ وغیرہ صلیبی فوجی جو گرفتار ہو گئے تھے، ان کی عورتیں صلاح الدین کے پاس آئیں۔ انھوں نے صلاح الدین کے پیروں پر اپنا سر رکھ دیا اور اپنے فوجی شوہروں کی رہائی کی درخواست کی۔ چنانچہ انھوں نے تمام فویجوں کی رہائی کا حکم دے دیا۔ مضمون ان الفاظ پر ختم ہوتا ہے : فقہ کان المورخ الفرنسی (جوستاف لوبون) فرانسیسی مورخ گستاؤلیبان یہ کہتے ہیں بالکل علی حق عندما قال جملته الماثورة : حق بجانب تھا کہ تاریخ نے عربوں سے زیادہ لم يعرف التاريخ فاتحاً ارحم من رحم دل فاتح نہیں دیکھا العرب (صفحہ ۱۰۱) جنگ کے بارہ میں یہی اسلام کا اصول ہے۔ اسلام جارحیت کے خلاف دفاع کی مکمل اجازت دیتا ہے۔ مگر جب جارح کی تلوار ٹوٹ جائے تو اس کے بعد اہل اسلام بھی اپنی تلوار توڑ لیتے ہیں۔ اسلام میں دفاع ہے مگر جارحیت نہیں۔ اسلام میں حفاظتی کارروائی ہے مگر انتقامی کارروائی نہیں۔ اسلام میں اپنا حق وصول کرنا ہے مگر اسلام میں یہ جائز نہیں کہ آدمی دوسرے کے خلاف دست درازی کرنے لگے۔ اسلام جس دل میں اترتا ہے وہ اس کو مثبت احساسات میں جینے والا انسان بناتا ہے نہ کہ منفی احساسات میں جینے والا انسان ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page