ترک فاتح
Urdu book, p. 36
By Maulana Wahiduddin Khan
ترک فاتح ترکوں نے ۵۳ ۱۴ء میں قسطنطنیہ فتح کیا جو اب استنبول کہا جاتا ہے۔ یہ مسیحی دنیا کے لیے سب سے زیادہ ہلا دینے والا واقعہ تھا۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ ایک یونانی کتبہ میں اس کے بارے میں یہ الفاظ لکھے گئے کہ اس سے زیادہ ہولناک واقعہ نہ کبھی ہوا اور نہ کبھی ہوگا : There has never been and there never will be a more dreadful happening (p. 336). حضرت عثمان کی خلافت (۶۵۶-۴۶ھ) کے زمانہ میں مسلمان ترکی میں داخل ہو گئے تھے۔ امیر معاویہ کے زمانہ میں انھوں نے ترک علاقہ میں مزید پیش قدمی کی۔ مگر اس کا دار السلطنت قسطنطنیہ انتہائی محفوظ جغرافیہ اور بے حد مضبوط قلعہ کی بنا پر اتنا مستحکم تھا کہ بار بار کوشش کے باوجود مسلمان اس کو مسخر نہ کر سکے۔ اس کی تسخیر ۸۰ سال بعد صرف ۱۴۵۳ء میں ممکن ہو سکی۔ ترکی کا عثمانی سلطان محمد دوم جو محمد فاتح کے نام سے مشہور ہے، وہ پہلا شخص ہے جس نے اس طویل مہم کو کامیابی تک پہنچایا۔ اس نے اس مقصد کے لیے نہایت گہر منصوبہ بنایا۔ سلطان محمد ۵۱ ۱۴ء میں تخت پر بیٹھا جو اس وقت ادرنہ (Edirne) میں تھا۔ اس نے خاموش اور مسلسل عمل کے ذریعہ تمام ممکن سیاسی اور فوجی تدبیریں اس مقصد کے لیے مہیا کیں۔ ۵۲ ۱۴ء کا پورا سال اس نے باسفورس کے کنارے ایک نیا قلعہ تعمیر کرنے میں صرف کیا جہاں سے جنگی کارروائیوں کو منظم کیا جا سکے۔ یہ قلعہ بعد کو قلعہ رومیل (Rameli Hisari) کے نام سے مشہور ہوا۔ اس نے ۳۱ جنگی جہازوں کا ایک طاقتور بیڑا تیار کروایا تاکہ سمندر کے راستہ سے مؤثر حملہ کیا جا سکے۔ اس نے سنگری کے ایک استاد اربان (Urban) کو بلا کر اتنی بڑی توپ تیار کرائی جو اس وقت کے یورپ میں ایک نادر چیز تھی۔ یہ توپ سازی بے حد اہم تھی، کیونکہ اسی کے ذریعہ قسطنطنیہ کی مضبوط سنگ کی فصیل توڑی جا سکی۔ اس قسم کی مختلف ضروری تیاریوں کے علاوہ اس نے مزید یہ کیا کہ بوقت جنگ یونان اور سنگری کو غیر جانب دار رکھنے کے لیے ان سے امن معاہدے کیے جن کی شرائط ایک طرفہ طور پر ان کے مفاد میں تھیں :

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader