Urdu book · عظمتِ مومن

ناکامیوں کے بعد

Urdu book, p. 38

By Maulana Wahiduddin Khan

ناکامیوں کے بعد ظہیر الدین محمد بابر (۱۵۳۰-۱۴۸۳) فرغانہ میں پیدا ہوا۔ یہ علاقہ اس وقت ازبکستان (ازبیک) میں شامل ہے۔ باپ کے واسطے سے اس کا سلسلہ نسب تیمور سے ملتا ہے اور ماں کے واسطے سے چنگیز خاں سے۔ بابر کا باپ عمر شیخ مرزا فرغانہ کا حاکم تھا۔ اُس وقت یہ مقام کوہ ہندو کش کے شمال میں ایک چھوٹے پرگنہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ فرغانہ کے پڑوس میں سمرقند تھا جو تیمور کی قدیم راجدھانی تھا۔ یہاں محمد شیبانی خاں کی حکومت تھی جو چنگیز خاں کی نسل سے تعلق رکھتا تھا۔ بابر کا باپ مستقل اس کوشش میں رہا کہ وہ سمرقند کو فتح کر کے اس کو اپنی سلطنت میں شامل کرے۔ مگر وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکا۔ باپ کی وفات پر ۱۴۹۴ میں بابر فرغانہ کا حاکم بنا جب کہ اس کی عمر صرف گیارہ سال تھی۔ باپ کی پیروی میں اس نے سمرقند پر قبضہ کرنے کے لیے اس پر کئی حملے کیے۔ مگر ۱۵۰۱ میں اس کو فیصلہ کن شکست ہوئی۔ یہاں تک کہ اس نے خود اپنی موروثی سلطنت فرغانہ کو بھی کھو دیا۔ ایک مورخ نے لکھا ہے کہ ایک کم سن بادشاہ کی حیثیت سے بابر نے فرغانہ کو کھو دیا۔ وہ مصیبتوں کے ایک دور میں داخل ہو گیا۔ اس کو خود اپنے پادری اور مادری چچاؤں سے لڑائی لڑنی پڑی۔ مگر ۲۰ سالہ مصیبت اور جنگ کے دوران اس نے اپنے حریفوں (ترک، مغل، ایرانی اور افغانی) سے کامیاب جنگی تدبیریں اور حربی طریقے سیکھ لیے۔ اس نے ان طریقوں میں سائنٹفک امتزاج پیدا کیا۔ سالہا سال کی شکستوں اور وطن سے محرومی اور طرح طرح کی مشکلات کے نتیجہ میں وہ ایک اچھا فوجی جنرل بن گیا ۔ اپنے باپ دادا کے علاقہ کو حاصل کرنے کے بارہ میں اپنے منصوبہ کی ناکامی کے بعد بابر نے اپنی توجہ ہندوستان کی طرف موڑ دی :

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page