میدان جنگ میں نماز
Urdu book, p. 40
By Maulana Wahiduddin Khan
میدان جنگ میں نماز اورنگ زیب عالمگیر (۱۶۰۶ء۔ ۱۷۰۷ء) مشہور مغل حکمران ہے۔ اس کے زمانہ میں مغل سلطنت کو سب سے زیادہ وسعت حاصل ہوئی۔ اس کی زندگی کا تقریباً نصف حصہ لڑائیوں میں گذرا۔ اس کی بہادری کے بہت سے عجیب واقعات تاریخ کی کتابوں میں نقل کیے گئے ہیں۔ اورنگ زیب نوجوانی کی عمر ہی میں اپنی امتیازی صلاحیتوں کی بنا پر شاہی خاندان میں نمایاں ہو گیا تھا۔ جب وہ نوجوان تھا، اس زمانہ میں ایک بار ایسا ہوا کہ ایک مست ہاتھی اس کے سامنے آگیا۔ اس وقت وہ گھوڑے پر سوار تھا۔ پہلے اس نے گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھے ہوئے ہاتھی کا مقابلہ کرنا چاہا۔ لیکن گھوڑا بدکنے لگا۔ اورنگ زیب اس سے ہراساں نہیں ہوا۔ وہ گھوڑے سے اترا پر اور زمین پر آکر تلوار کے ذریعہ ہاتھی کا مقابلہ کرنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ اس نے ہاتھی کو زیر کر لیا۔ انھیں صفات کی بنا پر شاہ جہاں اس کی بہت قدر کرتا تھا۔ نوجوانی کی عمر ہی سے اس کو بڑی بڑی مہموں پر بھیجنے لگاتا تھا۔ اورنگ زیب لڑائی کے گر سے خوب واقف تھا۔ وہ دشمن کا مقابلہ نہایت اطمینان کے ساتھ کرتا تھا اور کبھی گھبراتا نہ تھا، منتقل مزاجی کی صفت اس کے اندر کمال درجہ میں تھی۔ ان تمام صفات کے باوجود وہ انتہائی سادہ مزاج تھا اور بالکل معمولی زندگی گزارتا تھا۔ ایک مورخ نے لکھا ہے کہ جزیرہ نماے ہند میں (اورنگ زیب کے زمانہ میں) اگر چہ برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی اپنے کچھ ہولڈنگ رکھتی تھی ، مگر کا برٹ کے زمانہ میں اور اس کے بعد تک فرانسیسیوں کی پیش قدمی بہت سست رہی۔ اس کی وجہ جزئی طور پر یہ تھی کہ آخری مغل شہنشاہ اورنگ زیب انڈیا پر حکومت کر رہا تھا اور یہ یہاں غالب تھا :

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader