مفاد کی قربانی
Urdu book, p. 48
By Maulana Wahiduddin Khan
مفاد کی قربانی دور اول میں جنوبی اسپین کے بڑے حصہ پر مسلمانوں کی حکومت قائم ہوگئی تھی۔ اس علاقہ کو اصطلاحی طور پر اندلس کہا جاتا ہے۔ تاہم شمالی اسپین کا ایک حصہ ہمیشہ عیسائیوں کے پاس رہا۔ اس بنا پر دونوں قوتوں میں ہمیشہ ٹکراؤ اور مقابلہ کی صورت قائم رہتی تھی۔ گیارھویں صدی عیسوی کے نصف ثانی میں حالات بہت بگڑگئے، مسیحی بادشاہ الفانسو (Alfonso VI) نے ۱۰۸۵ء میں طلیطلہ (Toledo) کو فتح کرکے اپنی طاقت بہت زیادہ بڑھالی۔ اس نے مسلم شہروں پر حملے شروع کر دیے۔ اس کے یہ حملے اتنے شدید تھے کہ یہ اندیشہ محسوس کیا جانے لگا کہ بہت جلد اسپین سے مسلم اقتدار کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اس وقت المعتمد بن عباد اسپین کے مسلم علاقہ کا سلطان تھا۔ اس کا دار السلطنت اشبیلیہ (Selves) تھا۔ اس کو بہت مشکل حالات میں حکومت کا نظام سنبھالنا پڑا۔ پڑوس کے مسیحی حکمراں نہایت بے رحمانہ طور پر مسلم علاقہ کی طرف اقدام کر رہے تھے اور بظاہر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ پورا اسپین دوبارہ مسیحی اقتدار کے تحت آ جائے گا : He was destined to rule in difficult times: neighbouring prices were resuming the inexorable advance that in time would bring all of Spain once again under Christian rule. (VII/138) الفانسو نے اپنے اقتدار کو مستحکم کرنے کے بعد المعتمد سے اپنے سفیر کے ذریعہ خراج ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔ المعتمد نے حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے مطالبہ کو تسلیم کر لیا اور اس کو خراج کی رقم بھیج دی۔ یہ خراج چاندی کے سکوں کی صورت میں تھا۔ مسیحی حکمراں نے چاندی کے سکے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اور اتنے ہی مقدار میں سونے کے سکہ کا مطالبہ کیا۔ اب المعتمد کو غصہ آگیا۔ اس نے مسیحی سفیر کو قتل کر دیا اور زر خراج کی رقم ادا کرنے سے انکار کر دیا۔ الفانسو اپنی طبیعت کے لحاظ سے ایک متکبر بادشاہ تھا۔ مذکورہ واقعہ کے بعد وہ سخت برہم ہوا اور پختہ ارادہ کر لیا کہ اشبیلیہ پر حملہ کرکے نہ صرف اپنا انتقام لے بلکہ ہمیشہ کے لیے مسلم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader