Urdu book · عظمتِ مومن

ایک باپ

Urdu book, p. 10

By Maulana Wahiduddin Khan

نے کہا : مجھے ان دونوں میں سے کوئی چیز بھی منظور نہیں۔ اس انکار کے بعد سعید بن المسیب کو دوبارہ مختلف قسم کی سختیاں جھیلنی پڑیں۔ ان پر طرح طرح سے دباؤ ڈالے گئے۔ مگر وہ برابر اپنے انکار پر قائم رہے۔ اسی کے ساتھ وہ خاموشی سے یہ سوچتے رہے کہ کوئی مناسب رشتہ سامنے آئے تو لڑکی کا عقد کر دیا جائے۔ آخر کار انھوں نے قریش کے ایک عبید معروف طالب علم ابووداعہ کے ساتھ اپنی لڑکی کا نکاح کر دیا۔ مورخ ابن خلکان (۶۸۱ - ۷۰۸ ھ) نے ابووداعہ کے الفاظ میں یہ واقعہ مکمل طور پر نقل کیا ہے۔ اس کا ترجمہ یہ ہے ۔ ابو وداعہ کہتے ہیں : میں سعید بن المسیب کے حلقہ درس میں نہایت پابندی سے بیٹھا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ کچھ مدت تک حاضر نہ ہو سکا۔ اس کے بعد جب گیا تو انھوں نے پوچھا ، اتنے دنوں تم کہاں تھے۔ میں نے جواب دیا کہ میری بیوی کا انتقال ہو گیا تھا اس وجہ سے حاضر نہ ہو سکا۔ انھوں نے کہا، پھر ہمیں تم نے کیوں نہ خبر کی، ہم بھی اس کی تجہیز و تکفین میں شریک ہوتے۔ اس کے بعد جب میں اٹھنے لگا تو انھوں نے کہا ، تم نے دوسری بیوی کا کوئی انتظام کیا۔ میں نے کہا خدا آپ پر رحم فرمائے۔ کون میرے ساتھ اپنی لڑکی کا نکاح کرے گا جب کہ میں چند درہم سے زیادہ کی حیثیت کا آدمی نہیں ہوں۔ انھوں نے کہا ، اگر میں کروں تو تم کرنے کے لئے تیار رہو۔ میں نے کہا بہت خوب ۔ اس سے بہتر کیا ہے۔ اس کے بعد انھوں نے اللہ کی حمد بیان کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا اور اسی وقت دو یا تین درہم پر میرے ساتھ اپنی لڑکی کا نکاح پڑھا دیا۔ ابو وداعہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں وہاں سے اٹھا اور میری خوشی کا یہ عالم تھا کہ میری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ میں کیا کروں۔ میں اپنے مکان پر پہنچا اور اس فکر میں پڑ گیا کہ اب رخصتی وغیرہ کے لئے قرض کہاں سے حاصل کروں۔ میں نے مغرب کی نماز پڑھی اور اس دن میں روزہ سے تھا۔ نماز کے بعد میں نے چاہا کہ کھانا کھاؤں جو کہ روٹی تھا اور زیتون کا تیل ۔ اتنے میں دروازہ کھٹکھٹانے کی آواز آئی۔ میں نے پوچھا کون ہے؟ آواز آئی " سعید " میں نے سعید بن مسیب کو چھوڑ کر اس نام کے شخص کا تصور کیا۔ کیوں کہ سعید بن مسیب تو چالیس برس سے اپنے گھر اور مسجد کے علاوہ کہیں دیکھے نہیں گئے تھے۔ اٹھ کر دروازہ کھولا تو وہاں سعید بن مسیب کھڑے تھے۔ ان کو دیکھ کر معاً خیال ہوا کہ شاید ان کا خیال بدل گیا ہے اور وہ فسخ نکاح کرانے آئے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page