موافق امکانات
Urdu book, p. 194
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے۔ یہ ایک عظیم الشان کام ہے۔ جس کے لیے عظیم الشان وسائل اور غیر معمولی موافق حالات درکار ہیں۔ یہ وسائل اور حالات مسلم ملکوں میں یقینی طور پر مل سکتے ہیں۔ مگر وہ اسی وقت مل سکتے ہیں جب کہ مسلم حکومتوں کو اسلامی دعوت کا حریف نہ بنایا جائے۔ 1891ء کا واقعہ ہے کہ جاپان کے شہنشاہ میجی (1912-1868) کا ایک خط ترکی کے سلطان عبد الحمید ثانی (1918-1842) کو ملا۔ اس خط میں سلطان سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ مسلم مبلغین کو جاپان بھیجے تاکہ وہ وہاں کے لوگوں کو اسلام سے واقف کرائیں۔ سلطان عبد الحمید نے اس اہم کام کے لیے سید جمال الدین افغانی (1838- 1997) کا انتخاب کیا اور ان کو ہر طرح کے سرکاری تعاون کو یقین دلایا۔ مگر یہی سید جمال الدین افغانی جن کو سلطان عبد الحمید نے اس قدر احترام اور تعاون کا مستحق سمجھا تھا، بعد کو اسی سلطان نے سید جمال الدین افغانی کو جیل میں بند کر دیا۔ حتیٰ کہ جیل خانے ہی میں ان کا انتقال ہو گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ سلطان کو معلوم ہوا کہ سید جمال الدین افغانی اس کے خلاف سیاسی سازش میں مشغول ہیں۔ جمال الدین افغانی سلطان کو مغربی استعمار کا ایجنٹ سمجھتے تھے اور اس کو تخت سے بے دخل کر دینا چاہتے تھے۔ جو شخص جاپان میں اسلام کی تاریخ کا آغاز کرنے والا بن سکتا تھا وہ صرف جیل کے رجسٹر میں اپنے نام کا اضافہ کر کے رہ گیا۔ یہی تمام مسلم حکمرانوں کا حال ہے۔ اگر آپ اسلامی دعوت کے کام میں مشغول ہوں تو وہ ہر طرح کا اعلیٰ ترین تعاون آپ کو دیں گے۔ لیکن اگر آپ ان کے خلاف سیاسی مہم چلائیں تو وہ آپ کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ بد قسمتی سے موجودہ زمانے میں مسلسل سید جمال الدین افغانی کے اسوہ کو دہرایا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader