افراد کار کی فراہمی
Urdu book, p. 196
By Maulana Wahiduddin Khan
ادارے ہیں مگر ساری دنیا میں کوئی ایک مدرسہ بھی خاص اس مقصد کے لیے موجود نہیں جہاں خالص دعوتی ضرورت کے تحت لوگوں کی تعلیم و تربیت کی جائے تا کہ وہ وقت کی ضرورت کے مطابق تیار ہو کر مؤثر انداز میں لوگوں کے اوپر دعوت الی اللہ اور انذار آخرت کا کام کریں۔ آج کی ناگزیر ضرورت ہے کہ ایسی ایک تعلیم گاہ قائم کی جائے اور اس کو معیار کے مطابق بنانے کے لیے ہر وہ قیمت ادا کی جائے جو موجودہ حالات میں ضروری ہے۔ افراد کار کے سلسلے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان کو صرف " با علم " نہیں بلکہ " با مقصد " ہونا چاہیے۔ مقصد کے بغیر علم صرف معلومات ہے۔ مگر علم جب مقصد کے ساتھ ہو تو وہ معرفت بن جاتا ہے۔ اگر ایک ایسی تعلیم گاہ قائم ہو جہاں ڈگری یافتہ اساتذہ کے ذریعے لوگوں کو قدیم و جدید علوم پڑھا دیے جائیں تو صرف اس بنا پر وہ مطلوبہ داعی نہیں بن جائیں گے۔ ضروری ہے کہ ان کے سینے میں مقصد کی آگ لگی ہوئی ہو۔ کیوں کہ مقصد ہی لوگوں کے اندر وہ اعلیٰ فکر اور اعلیٰ کردار پیدا کرتا ہے جس کے ذریعے وہ دعوت کے میدان میں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کر سکیں۔ خواہ کوئی دنیوی مقصد ہو یا دینی مقصد، دونوں ہی کے لیے ایسے افراد درکار ہیں جو ایک اعلیٰ مقصد کی خاطر ہر قسم کی ضروری قربانی دے سکیں۔ ٹائمْس (The Times) لندن کا ایک قدیم اخبار ہے۔ اس اخبار میں 1900 میں ایک اشتہار چھپا۔ اس اشتہار کے ساتھ نہ عورتوں کی تصویریں تھیں نہ کسی قسم کے بناوٹی تماشے ۔ اس میں ایک چھوٹے سے چوکھٹے میں حسب ذیل الفاظ درج تھے۔ایک جوکھم کے سفر کے لیے آدمی درکار ہیں۔ معمولی رقم، سخت سردی، مکمل تاریکی کے لمبے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader