افراد کار کی فراہمی
Urdu book, p. 198
By Maulana Wahiduddin Khan
لِمِعَادِ رَسُولِ اللهِ صلی الله علیه وسلم نَتَسَلَّلُ تَسَلُّلَ الْقَطَا مُسْتَخْفِينَ، حَتَّى اجْتَمَعْنَا فِي الشِّعْبِ عِنْدَ الْعَقَبَةِ، وَنَحْنُ ثَلَاثَةٌ وَسَبْعُونَ رَجُلًا، وَمَعَنَا امْرَأَتَانِ مِنْ نِسَائِنَا (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 441)۔ یعنی، کعب بن مالک انصاری کہتے ہیں کہ ہم مدینہ سے حج کے لیے روانہ ہوئے، اور (پچھلے سال) ہم نے رسول اللہ صلی الله علیه وسلم سے ملاقات کے لیے تشریق کے درمیانی دن کا وعدہ کیا تھا۔ چنانچہ جب ہم حج سے فارغ ہوگئے اور وہ رات آگئی جس میں ہمیں حسبِ وعدہ رسول اللہ صلی الله علیه وسلم سے ملنا تھا۔ ہمارے ساتھ ہمارے ایک معزز سردار ابو جابر عبد الله بن عمرو بن حرام تھے۔ ہم نے ان سے گفتگو کی، وہ ہمارے ساتھی بن گئے۔ چنانچہ ہم نے ان کو اپنے ساتھ لے لیا۔ اس کے علاوہ دوسرے مشرکین کو ہم اپنا منصوبہ نہیں بتاتے تھے۔ رات کے وقت ہم دوسروں کی طرح ان کے ساتھ سو گئے۔ یہاں تک کہ جب رات کا تہائی حصہ گزر گیا تو ہم رسول اللہ کی قرار داد کے مطابق اپنے بستروں سے خاموشی کے ساتھ اٹھے، اور طے شدہ مقام کی طرف اس طرح چلے جیسے چڑیا جھاڑیوں میں آہستہ آہستہ سکڑ کر چلتی ہے۔ یہاں تک کہ ہم سب، تہتر مرد اور دو عورتیں، عقبہ کی گھاٹی میں اکٹھا ہوگئے۔ اس کے بعد کیا واقعہ پیش آیا، اس کو ابن اسحاق نے آگے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: وَحَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ: أَنَّ الْقَوْمَ لَمَّا اجْتَمَعُوا لِبَيْعَةِ رَسُولِ اللهِ صلی الله علیه وسلم قَالَ الْعَبَّاسُ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader